امریکہ نے بدھ کے روز قطر میں واقع العدید ایئر بیس سے غیر ضروری امریکی اہلکاروں کی ایک غیر متعین تعداد کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے اور اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے اندر جاری احتجاجی صورتحال کے تناظر میں ممکنہ عسکری آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی عسکری حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وزارت دفاع پینٹاگان نے العدید بیس سے اپنے کچھ اہلکاروں کی منتقلی کا عمل شروع کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہے جو ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے باعث پیدا ہوا۔
دوسری جانب قطر نے ایک سرکاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں موجود کشیدہ صورتحال کے دوران معمول کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
یہ پیش رفت امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے ایرانی مظاہرین سے کہا تھا کہ مدد آنے والی ہے وہ احتجاج جاری رکھیں۔ مبصرین کے مطابق اس بیان کو ایرانی مظاہرین کی حمایت کے پیغام اور ممکنہ امریکی مداخلت کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پینٹاگان کے حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کے سامنے موجود آپشنز میں ایرانی جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل تنصیبات پر عسکری حملے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے متبادل راستے بھی زیر غور ہیں جن کے امکانات زیادہ سمجھے جا رہے ہیں، جیسے سائبر حملہ یا ایرانی داخلی سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانا، جو مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کر رہے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ حملہ کم از کم آئندہ چند دنوں میں کسی بھی وقت ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز نے یورپی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران میں امریکی عسکری مداخلت کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور یہ کارروائی آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہو سکتی ہے۔
ان پیش رفتوں کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ نے بھی ممکنہ امریکی حملوں کے پیش نظر قطر میں واقع ایک فضائی اڈے سے اپنے کچھ اہلکار واپس بلا لیے ہیں۔
اس سے قبل پیر کے روز اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ امریکی جنگی طیارے ایرانی فضائی حدود کے قریب پروازیں کر رہے ہیں جو کسی قریبی عسکری کارروائی کے امکان کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔