صدر صومالیہ کا صومالی لینڈ کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمد نے صومالی لینڈ کے علاقے لاس انود کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ دورہ جمعہ کے روز کیا۔ خیال رہے انہوں نے یہ دورہ ایسے موقع پر کیا ہے جب اس علاقے کی صومالی لینڈ کے زیر کنٹرول ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

پچھلے 40 برسوں کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ صومالیہ کے صدر نے صوبائی دارالحکومت کا دورہ کیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے پر لاس انود کے دورہ کے دوران سفارتی تناؤ موجو رہا۔ موغادیشو نے بھی اس دورے کی شدید مخالفت کی ہے۔

ان کا یہ دورہ نئی تشکیل شدہ شمال مشرقی ریاست کے صدر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے حوالے سے تھا۔ یہ ریاست اگست 2025 میں صومالیہ کی چھٹی ریاست بنی تھی۔

صومالی لینڈ شمال مشرقی ریاست سول، سناگ اور کین کے علاقوں پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ رکھتا ہے۔

یاد رہے لاس انود 2007 سے صومالی لینڈ کے قبضے میں ہے۔ تاہم 2023 میں صومالی فورسز اور موغادیشو کی حامی ملیشیاؤں کی پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں اسے یہاں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

صدر صومالیہ کے دفتر نے صدر کے دورے کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا یہ دورہ صومالیہ کے عوام کے علاقائی اتحاد کے نفاذ اور وفاقی حکومت کے اتحاد و کوششوں کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔

صومالیہ کے صدر کے دورے کے حوالے سے صومالی لینڈ نے فوری طور پر ردعمل کا اظہار کیا۔

خضر حسین عابدی نے کہا لاس انود صومالی لینڈ کا حصہ ہے اور ہم مذاکرات کے ذریعے اختلافات کے حل کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا حسن شیخ محمد کو اپنے گھر کو ترتیب دینا چاہیے۔ صومالی لینڈ کی پہچان ایک حقیقت ہے جسے کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں