غزہ : حماس کی سینیئر شخصیت اسرائیلی بمباری میں جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حماس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ایک سینیئر رکن جمعرات کے روز دیر البلاح میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔

تاہم حماس کی طرف سے باضابطہ طور پر اس واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے بھی فوری طور پر اس سلسلے میں تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔ البتہ حماس سے جڑے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں القسام بریگیڈ کے مقامی کمانڈر جاں بحق ہوگئے اور یہ واقعہ دیر البلاح میں پیش آیا۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق بمباری سے جاں بحق ہونے والے 6 فلسطینیوں میں ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔ اب تک اسرائیلی فوج نے 10 اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 450 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے لیے اسرائیلی جنگی طیاروں سے بمباری کیے جانے کے علاوہ ٹینکوں سے گولہ باری کی جاتی ہے جبکہ اسرائیلی فوجی براہ راست فائرنگ بھی کرتے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی ڈرون طیارے سے بھی حملے کیے جاتے ہیں۔

جنگ بندی کے بعد بھی غزہ کے جن علاقوں میں ابھی تک اسرائیلی فوج موجود ہے وہ ان علاقوں کی جزوی طور پر بچی کھچی عمارات کو بھی بلڈوزرز کے ذریعے گرا رہی ہے۔

تقریبا پورے علاقے میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگ اپنے گھروں کی تباہی کے باعث خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں یا تباہ شدہ مکانوں کے بچے کھچے ایک آدھ کمرے یا چھت کے نیچے پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج ان علاقوں میں مکانات کو خاص طور پر ٹارگٹ کر کے بلڈوزر سے صاف کرنے میں مصروف ہے جن علاقوں میں اسرائیلی فوج بظاہر پیچھے ہٹ گئی ہے اور فوج کے مطابق حماس نے اپنا اثر رسوخ بڑھا دیا ہے۔

بچوں کے امور کو دیکھنے والے اقوام متحدہ کے ادارے 'یونیسیف' کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک ایک سو سے زائد بچے بھی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ جن میں ڈرون حملوں سے نشانہ بنائے گئے خاندانوں کے بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج حماس پر الزام لگاتی ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

خیال رہے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج کے تین اہلکار صرف ایک واقعے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد جیسا کہ اوپر بیان کی گئی ہے کہ 450 سے زائد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں