فرانسیسی انقلاب کے واقعات کے آغاز کے بعد سے یورپی براعظم طویل عرصے تک عدم استحکام کی کیفیت سے دوچار رہا۔ فرانس کی توسیع پسندانہ خواہشات کا مقابلہ کرنے اور انقلابی نظریات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اس کے خلاف متعدد اتحاد قائم کیے گئے۔
1799 میں یورپ میں فرانس کے ساتھ جنگوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اسی برس نپولین بوناپارٹ نے پارلیمنٹ پر دھاوا بول کر فرانسیسی انقلاب کا خاتمہ کیا اور قونصلوں کی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا۔چند ہی برس بعد نپولین نے خود کو فرانس کا شہنشاہ قرار دے دیا۔
اس کے دور میں یورپ نپولینی جنگوں کی لپیٹ میں آ گیا، جو بالآخر نپولین بوناپارٹ کے تخت سے دستبردار ہونے اور بحرِ اوقیانوس کے وسط میں واقع جزیرہ سینٹ ہیلینا جلاوطن کیے جانے پر اختتام پذیر ہوئیں۔
یورپی مفاہمتی نظام کا ظہور
فرانسیسی انقلاب اور نپولینی جنگوں کے تقریباً بیس برس بعد یورپی طاقتیں 1814 سے 1815 کے درمیان ویانا میں جمع ہوئیں۔ یہ اجتماع نپولین بوناپارٹ کی پہلی مرتبہ تخت سے دستبرداری کے بعد ہوا، جس کا مقصد یورپ میں امن کے مسائل پر غور کرنا اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا تھا۔
اگرچہ نپولین بوناپارٹ سو دنوں کے لیے دوبارہ اقتدار میں آیا، تاہم ویانا کانگریس کا عمل جاری رہا اور نپولین کے بعد یورپ کے مستقبل پر بحث ہوتی رہی۔
ویانا کانگریس میں برطانیہ، روس، آسٹریا اور پروشیا سمیت متعدد یورپی ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، جبکہ اسپین، پرتگال اور سردینیا و سسلی کی مملکتوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
اس کے علاوہ فرانس کا ایک وفد بھی کانگریس میں شریک ہوا، جس میں فرانسیسی بادشاہ لوئی ہجدہم کے نمائندے شامل تھے۔ویانا کانگریس میں یورپی طاقتوں نے سیاسی استحکام طاقت کے توازن اور یورپ میں کسی ایک ملک کے غلبے کو روکنے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اُن نظامِ حکومت کی بحالی پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی، جو نپولین بوناپارٹ کے باعث منہدم ہو چکے تھے اور ایک نئی یورپی نقشہ بندی کی بنیاد رکھی گئی، جس نے روس، پروشیا اور آسٹریا کے کردار کو مضبوط کیا اور مملکتِ ہالینڈ کے قیام میں مدد دی۔
اس موقع پر فرانس نے اپنی شکست کے باوجود دوبارہ یورپی طاقتوں کے کلب میں واپسی کے لیے اپنی پوزیشن پر بھی بات چیت کی۔اس کانگریس کے نتیجے میں روس، پروشیا اور آسٹریا کے درمیان ’’مقدس اتحاد‘‘ کے قیام کا اعلان ہوا، جس کا مقصد مسیحی اصولوں کی بنیاد پر تنازعات کا حل تھا۔
اس کے ساتھ ہی ویانا کانگریس نے یورپی مفاہمتی پالیسی یا کنسرٹ آف یورپ (Concert of Europe) کی بنیاد رکھی، جو ایک ایسا نظام تھا جس کے ذریعے یورپی ممالک طاقت اور اثر و رسوخ کے توازن کو برقرار رکھنے، عسکری تصادم سے گریز کرنے اور تنازعات کی شدت کم کرنے کے لیے باقاعدہ کانفرنسوں کے ذریعے مشاورت کرتے تھے، تاکہ اختلافات بڑھنے کی صورت میں استحکام اور امن بحال کیا جا سکے۔
نظام کے کام کرنے کی بنیادیں اور اس کا اختتام
یورپی مفاہمتی نظام میں آسٹریا، برطانیہ، فرانس، پروشیا اور روس شامل تھے۔ یہ ممالک باقاعدگی سے آپس میں اجلاس اور کانفرنسیں منعقد کرتے تھے تاکہ اختلافات کو حل کیا جا سکے اور ممکنہ تنازعات کے پھوٹنے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب مقدس اتحاد کے رکن ممالک نے انہی اجلاسوں کو انقلابی اور لبرل تحریکوں کا مقابلہ کرنے اور عوامی قوم پرستانہ رجحانات کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا۔
انیسویں صدی کی تیسری دہائی (1820ء کی دہائی) کے دوران یورپی مفاہمتی نظام میں بتدریج کمزوری آنا شروع ہو گئی۔ اس کے باوجود یورپ کی بڑی طاقتوں کے درمیان اجلاس اور کانفرنسیں وقفے وقفے سے جاری رہیں۔اپنے وجود کے دوران یورپی مفاہمتی نظام کو متعدد مشکلات کا سامنا رہا۔
1848 کے انقلابات نے اس نظام کو شدید دھچکا پہنچایا۔ یہ نظام نہ تو اٹلی کے اتحاد کا سبب بننے والی جنگوں کو روک سکا اور نہ ہی پروشیا اور چانسلر اوٹو فان بسمارک کی قیادت میں جرمن قوم پرستی کے عروج اور 1871 میں جرمنی کے اتحاد کو روکنے میں کامیاب ہوا۔
جرمن اتحاد کے بعد یہ نظام ایک دوسرے مرحلے میں داخل ہوا، جس میں جرمنی نے چانسلر اوٹو فان بسمارک کی سفارتی حکمتِ عملی کے تحت کانفرنسوں کی میزبانی شروع کی۔ کئی برسوں تک ان کانفرنسوں نے یورپی طاقتوں کے درمیان براہِ راست جنگوں سے بچاؤ میں کردار ادا کیا اور ساتھ ہی یورپی سامراجی طاقتوں کی نوآبادیاتی توسیع میں بھی مدد دی۔
آخر تقریباً 100 برس بعد یورپی مفاہمتی نظام اپنے اختتام کو پہنچا، جب سفارتی ذرائع پہلی عالمی جنگ کو روکنے میں ناکام ہو گئے۔ یہ جنگ چار سال سے زائد عرصے تک یورپ میں جاری رہی اور اس کے نتیجے میں تقریباً دو کروڑ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔