امریکہ نے اٹلی سے غزہ کی پٹی میں "بین الاقوامی استحکام فورس" میں بطور بانی رکن شامل ہونے کی درخواست کی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کی انتظامیہ اس اقدام کی ساکھ کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بات خبر رساں ایجنسی "بلومبرگ" نے آج ہفتے کے روز با خبر ذرائع کے حوالے سے بتائی۔
"بلومبرگ" نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سفارت کاروں نے حال ہی میں ہونے والی نجی گفتگو کے دوران یہ پیشکش وزیرِ اعظم جورجیا میلونی کے دفتر اور اطالوی وزارتِ خارجہ کو پیش کی ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ شمولیت کا فیصلہ اب میلونی کے ہاتھ میں ہے، جنہوں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
تجویز کے مطابق اٹلی "بین الاقوامی استحکام فورس" کے لیے اپنی افواج فراہم نہیں کرے گا۔ اس کے بجائے غزہ کی پٹی کی مستقبل کی پولیس فورس کی تربیت کا سابقہ عہد ہی کافی ہو گا۔ با خبر ذرائع کے مطابق، اٹلی کا بنیادی تعاون سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک، فلسطین اور اسرائیل کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات کی صورت میں ہوگا۔
میلونی کے دفتر اور اطالوی وزارتِ خارجہ دونوں نے ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر روجرز نے بھی اس بات کی وضاحت کرنے سے گریز کیا کہ آیا واشنگٹن نے روم کو دعوت دی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا "بین الاقوامی استحکام فورس کے حوالے سے اعلانات جلد کیے جائیں گے"۔
اٹلی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں، ایک امریکی اہل کار نے "ڈی پی اے" ایجنسی کو بتایا کہ کئی ممالک غزہ کی پٹی میں ٹرمپ کی امن کوششوں میں شرکت کے خواہش مند ہیں اور یہ کہ امریکہ شراکت دار ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
-
کشنر نے نقشوں اور تفصیلات کے ساتھ ’’ نیو غزہ ‘‘ منصوبہ پیش کردیا
بس 30 دن کے لیے خاموش ہو جائیں: ٹرمپ کے داماد کی ڈیووس میں غزہ میں امن کے بارے میں ...
بين الاقوامى -
رفح راہداری کھول کر اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کے نکلنے کی حوصلہ افزائی کرے گا: ذرائع
اسرائیل چاہتا ہے کہ رفح راہداری کھلنے کے باوجود غزہ میں فلسطینیوں کے مزید داخل ...
مشرق وسطی -
غزہ پر اسرائیلی حملے میں ایک فلسطینی جاں بحق، متعدد زخمی
غزہ کے مختلف علاقوں پر فضائی اور توپ خانے کی گولہ باری کے ساتھ جنگ بندی کی خلاف ...
مشرق وسطی