جنوبی سوڈان : شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر پرتشدد کارروائیوں کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جنوبی سوڈان میں جاری بد امنی کے پیش نظر شہریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں غیر معمولی طور پر اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ انتباہ اقوام متحدہ کے غیر جانبدار ماہرین نے اتوار کے روز کیا یے۔

غیر جانبدار ماہرین نے یہ انتباہ تصادم میں پیدا ہونے والی تازہ شدت کے باعث کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے ان ماہرین کی رپورٹس کی بنیاد پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سوڈان کی جانگلئی ریاست میں باہمی لڑائی کافی سنگین ہو چکی ہے۔ یہ علاقہ دارالحکومت جوبا کے شمال میں ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خوف سے شہری بڑی تعداد میں علاقے سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

دنیا کے سب سے نئے بننے والے ملک میں جنگی صورت حال کا سامنا ہے۔ ملک میں بد عنوانی اور غربت کی وجہ سے پہلے ہی صورت حال دگرگوں تھی۔ ملک میں 2011 سے پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف گروہ ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔

اس جنگی صورت حال کے خاتمے کے لیے شراکت اقتدار بھی دونوں بڑے دھڑوں کے درمیان موجود ہے۔ مگر صدر سلوا کیر کے انتقال کے بعد نائب صدر اور لمبے عرصے سے چلے آرہے سیاسی حریف باہم لڑ رہے ہیں۔

سیاسی مخالف ریک ماچر کو پچھلے سال ماہ مارچ میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اب ان کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔

اس عرصے کے دوران دونوں طرف کی فورسز باہم لڑ رہی ہیں۔ تاہم ماہ دسمبر سے تصادم میں شدت آگئی تھی۔ جانگلئی کا علاقہ بطور خاص گرم ہے۔ فورسز کے کمانڈر شہریوں کے خلاف تشدد پر بھی ابھار رہے ہیں۔ فوج کی پیش قدمی کی وجہ سے خطرات پھیل گئے ہیں۔

فوجی سربراہ پال نانگ میجوک نے فوج کو حکم دیا ہے کہ علاقے سے باغیوں کا صفایا کر دیا جائے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ فوجی حکام کو ہدایت ملی ہے کہ کسی کو بھی نہ چھوڑا جائے اور بغاوت کچل دی جائے۔ حتی کہ بوڑھوں کو بھی معاف نہ کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے جنوبی سوڈان میں قائم مشن نے اس صورت حال پر سخت تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اس بد امنی کو روکا جانا چاہیے۔ آگ لگانے والے بیانات دیے جا رہے ہیں اور شہریوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں