ایران کمزور اور پہلے سے زیادہ خطرات سے دوچار: پینٹاگان دستاویز میں انکشاف

تہران ہائی الرٹ پر، بدترین منظرناموں کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کی اسٹریٹجک دفاعی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایران حالیہ ناکامیوں کے باوجود اپنی عسکری قوت کی ازسرنو تعمیر کے لیے پُرعزم ہے۔ دستاویز کے مطابق ایرانی قیادت مذاکرات سے انکار کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے اتحادی گروہ اپنی انفرااسٹرکچر کی بحالی کی کوشش کریں گے اور ایسے علاقائی بحران بھڑکا سکتے ہیں جو خطے میں موجود امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالیں گے اور امن کو کمزور کریں گے۔ پینٹاگان کے مطابق ایرانی نظام دہائیوں کے مقابلے میں اس وقت کہیں زیادہ کمزور اور خطرات کی زد میں ہے۔

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی محور کو بھی اسی نوعیت کی تباہی کا سامنا ہے جیسی خود ایرانی نظام کو لاحق ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے محدود مگر فیصلہ کن امریکی حمایت کے ساتھ اپنے دفاع کی خواہش اور صلاحیت ثابت کی ہے۔

دوسری جانب ایک ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایران اس وقت ہائی الرٹ پر ہے اور بدترین ممکنہ حالات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ عہدیدار نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام پر غیر معمولی فوجی ردعمل دیا جائے گا اور کسی بھی حملے کو مکمل جنگ تصور کیا جائے گا۔

ان پیش رفتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ایسے اشارے موجود ہیں کہ اسرائیل اب بھی ایران پر حملے کے موقع کی تلاش میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا کوئی بھی قدم خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ادھر واشنگٹن میں العربیہ اور الحدث کے دفتر کی سربراہ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ کی نائب ترجمان منیون ہیوسٹن نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ امریکی حکمت عملی کا مرکز ایرانی عوام کی حمایت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں