ہمارے خلاف کسی بھی حملے سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گا: ایران کا پھر انتباہ

تہران کا واشنگٹن اور اسرائیل کو سخت پیغام، کسی بھی جارحیت پر تباہ کن جواب دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ کے ساتھ مسلسل کشیدگی کے تناظر میں ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ خطے کے امن کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی بھی کوشش صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات دیگر علاقوں تک بھی پھیل جائیں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج پیر کے روز ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ان کا ملک کسی بھی عسکری حملے کا ایسا جواب دے گا جس پر حملہ آور پچھتائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت بھی ایک ہمہ گیر ہائبرڈ جنگ کا سامنا کر رہا ہے جو گذشتہ جون میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کی جانے والی عسکری کارروائیوں کا تسلسل ہے۔

بقائی کے مطابق اسرائیلی اور امریکی دھمکیاں گذشتہ کئی مہینوں سے روزانہ کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں تاہم خطے کے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ عدم استحکام ایک متعدی عمل ہے اور ان خلفشاروں کے اہداف صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔

جامع اور فیصلہ کن ردعمل

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ تہران آج پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ایک جامع اور فیصلہ کن جواب دے گا جو دشمن کے لیے پشیمانی کا باعث بنے گا۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف کے درمیان کسی رابطے کے حوالے سے بقائی نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں۔

یورپی پارلیمان کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے پر انہوں نے اسے مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ اس کے کئی منفی اثرات ہوں گے اور ایران اس کا جواب دے گا۔

عراق میں حکمرانی سے متعلق صورتحال پر بات کرتے ہوئے بقائی نے واضح کیا کہ وہاں ہونے والی پیش رفت مکمل طور پر عراقی عوام کا اندرونی معاملہ ہے، یہ بیان نئی حکومت کی تشکیل کی جانب اشارہ تھا۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی جنگی طیارے اور فوجی سازوسامان مشرق وسطیٰ پہنچ چکا ہے، جہاں چند روزہ تیاری کی مشقیں کی جائیں گی، جیسا کہ امریکی مرکزی کمان نے آج پہلے واضح کیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف عسکری آپشن کی بارہا دھمکی دی تھی تاہم بعد میں اپنے لہجے میں نرمی پیدا کی، ان کے بقول یہ قدم ایرانی حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سزائے موت کے نفاذ کو روکنے کے بعد اٹھایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں