یورپی یونین ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرے:اٹلی کا اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے پیر کے روز یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کور ایک دہشت گرد ادارہ ہے۔ وزیر خارجہ ایرانی مظاہرین کے حوالے سے بات کر رہے تھے جن کے خلاف ایرانی سیکیورٹی فورسز نے سخت کریک ڈاؤن کیا ہے۔

اطالوی وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران جمعرات کے روز تجویز پیش کریں گے کہ ہمارے شراکت دار باہمی کوآرڈینیشن کے ذریعے پاسدران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' پر لکھا ہے کہ اس کی وجہ سے ایران میں مظاہرین کو جس صورت حال کا سامنا ہے اس پر ہمیں واضح جواب دینا چاہیے اور پاسدران انقلاب کور کو دہشت گرد سیکیورٹی ادارہ قرار دینا چاہیے۔

وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے یہ بھی مطالبہ کیا مظاہرین پرتشدد کے ذمہ داروں کے خلاف انفرادی طور پر بھی پابندیاں لگانی چاہیں۔

اس سے قبل یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک ایران کے سینکڑوں افراد اور حکام کے خلاف پابندیاں لگا چکے ہیں۔ ان میں روس سے تعاون و تجارت کے پس منظر میں لگائی گئی پابندیاں بھی شامل ہیں۔

یورپی یونین نے ایران کو برآمد کی جانے والی ایسی اشیاء پر بھی پابندیاں لگا رکھی ہیں جو کسی بھی طرح ایرانی ڈرون اور بیلیسٹک میزائل پراجیکٹ میں کام آسکتی ہیں۔

پچھلے ہفتے یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے اس سلسلے میں کچھ اضافی آلات پر بھی پابندیوں کا اعلان کیا ہے جو ایران کے ڈرون طیاروں اور میزائل سازی کی صنعت میں بروئے کار آسکتے ہیں۔ جبکہ جمعہ کے روز یورپی یونین کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ پاسداران انقلاب کور کے خلاف تجاویز پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم اس کے لیے فیصلہ متفقہ طور پر کریں گے۔ جس کی کوشش کی جارہی ہے۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے ایک ادارے ' ایچ آر اے این اے ' نے پیر کے روز مظاہرین کی ہلاکتوں کی تعداد 6000 بتائی ہے۔ اس امریکی ادارے کے مطابق یہ ابھی مزید امکانی 17000 ہلاکتوں کے بارے میں جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کل ہلاکتوں کی تعداد 3117 ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں