ڈیل کے لیے شرائط بتا دیں، ایران معاہدے یا تباہی میں کسی ایک کا انتخاب کرے:ٹرمپ کی وارننگ
تہران کو بار ہا معاہدے کی طرف آنے کو کہا مگر وہ نہیں مانا،ایران کی تباہی کے لیے پوری طاقت سے کارروائی کریں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر معاہدہ کرے، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو تہران پر ہونے والا آئندہ حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایک بہت بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے جو غیر معمولی رفتار، بھرپور طاقت، زبردست جوش اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ بیڑا، عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کی قیادت میں، اس بیڑے سے بھی بڑا ہے جو وینزویلا کی طرف بھیجا گیا تھا۔
امریکی صدر نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ وینزویلا کی طرح یہ بیڑا بھی مکمل طور پر تیار، مستعد اور ضرورت پڑنے پر انتہائی طاقت کے ساتھ اپنا مشن تیزی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے پر بات چیت کرے گا۔ ایسا معاہدہ جس میں جوہری ہتھیار شامل نہ ہوں اور جو تمام فریقوں کے مفاد میں ہو۔ ٹرمپ کے بہ قول وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور معاملہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پہلے بھی ایران سے کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ کر لو، لیکن ایسا نہیں ہوا جس کے بعد آپریشن ’مڈ نائٹ ہیمر‘ کیا گیا جس سے ایران کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ حملہ اس سے بھی کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا اور ایران کو ایسی صورتحال کے دوبارہ پیدا ہونے سے بچنا چاہیے۔
اس سے قبل منگل کے روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایک اور شاندار امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب روانہ ہو چکا ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جائے گا۔
منگل کو امریکی بحریہ کی ایک اسٹرائیک فورس جس کی قیادت ایک طیارہ بردار بحری جہاز کر رہا ہے مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دی گئی ہے۔ اس دوران ایران نے کسی بھی حملے کی صورت میں جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ اب بھی بات چیت کی خواہاں ہے۔
دوسری جانب ایران میں منگل کے روز بھی احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں گرفتاریاں جاری رہیں۔ بیرون ملک قائم ایرانی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق آٹھ جنوری سے انٹرنیٹ کی بندش کے دوران اب تک اکتالیس ہزار آٹھ سو اسی افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
واشنگٹن نے ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں کسی نئے فوجی اقدام کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ بیرون ملک سرگرم انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے اعلان کیا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کی قیادت میں ایک اسٹرائیک گروپ مشرق وسطیٰ کے علاقائی پانیوں میں پہنچ چکا ہے، تاہم اس کی درست جگہ ظاہر نہیں کی گئی۔
پیر کے روز ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ویب سائٹ ایکسیس کو بتایا کہ ایران کے قریب موجود امریکی بیڑا وینزویلا کے قریب تعینات بیڑے سے کہیں بڑا ہے۔ اس بیان میں انہوں نے بالواسطہ طور پر وینزویلا میں اپنی افواج کی کارروائی کی طرف اشارہ کیا جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا تھا۔
تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قیادت معاہدہ چاہتی ہے، انہیں اس کا علم ہے اور تہران کئی مرتبہ رابطہ کر چکا ہے کیونکہ وہ بات چیت کے خواہاں ہیں۔
ایکسیس نے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اگر ایران رابطہ کرنا چاہتا ہے اور وہ شرائط سے آگاہ ہے تو امریکہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم کی جانب سے پیش کردہ آپشنز پر کھل کر بات کرنے یا کسی ایک کو ترجیح دینے سے انکار کر دیا۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے ایسی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ ایک پریس کانفرنس میں بنجمن نیتن یاھو نے کہا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کرنے کی سنگین غلطی کی تو اسرائیل بھرپور جواب دے گا۔
منگل کے روز ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے پاسداران انقلاب کی بحری فورس کے کمانڈر کے سیاسی معاون محمد اکبر زادہ کے حوالے سے کہاتھا کہ ہمسایہ ممالک ایران کے دوست ہیں، لیکن اگر ان کی سرزمین، فضائی حدود یا پانی ایران کے خلاف استعمال ہوئے تو انہیں دشمن ممالک تصور کیا جائے گا۔
اسی روز ایرانی قدامت پسند اخبار ہمشہری نے پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی کے حوالے سے کہا کہ اگر امریکی طیارہ بردار بحری جہاز نے کوئی غلطی کی اور ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی قدامت پسند اخبار جوان نے رپورٹ کیا کہ ایران وسیع پیمانے پر جواب دینے کے لیے تیار ہے اور وہ توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کا قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔
دریں اثنا تہران کے وسطی علاقے انقلاب اسکوائر میں ایک نیا اشتہاری بورڈ نصب کیا گیا ہے جس میں امریکہ مخالف پیغام کے ساتھ ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو تباہ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
-
اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام، ایران میں ایک شخص کو سزائے موت
ایران نے بدھ کے روز ایک شخص کو پھانسی دے دی جس پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام ...
مشرق وسطی -
ترکی میں ایران کے لیے جاسوسی کے شبے میں چھے افراد گرفتار
گرفتار شدگان میں ایک ایرانی شہری بھی شامل
مشرق وسطی -
ہم نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی درخواست نہیں کی : ایرانی وزیر خارجہ
عراقچی نے گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ کسی بھی ...
مشرق وسطی