امریکی انتظامیہ نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ میں جاری نازک جنگ بندی کے دوران اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر مالیت کے 30 "اپاچی" حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور متعلقہ آلات کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ "امریکہ اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے پرعزم ہے اور امریکی قومی مفادات کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسرائیل کو ایک مضبوط اور مؤثر دفاعی صلاحیت تیار کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں مدد دی جائے"۔ محکمہ خارجہ نے مزید بتایا کہ اس نے کانگریس کو اس فروخت کے بارے میں مطلع کر دیا ہے۔
فرانس پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ "یہ مجوزہ معاہدہ ان اہداف کے عین مطابق ہے"۔ اس سودے میں 1.8 ارب ڈالر مالیت کی ہلکی ٹیکٹیکل گاڑیاں بھی شامل ہیں۔
6.7 ارب ڈالر مالیت
یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے تقریباً 6.7 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کے نئے پیکج کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ واشنگٹن نے غزہ کی پٹی میں دو سال کی تباہ کن جنگ کے بعد اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان جنگ بندی کی سرپرستی کی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جس میں خاص طور پر حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کے مزید علاقوں سے اسرائیل کا انخلا شامل ہے۔