غزہ میں امدادی کام بند ہونے پر ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی شدید تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اسرائیلی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں روکنے سے لاکھوں فلسطینی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں پہلے سے تباہ حال علاقے میں انسانی المیہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے سیکریٹری جنرل کرسٹوفر لوکیئر نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں تنظیم کی سرگرمیاں روکنے کا اسرائیلی فیصلہ علاقے کے عوام کے لیے "تباہ کن نتائج" کا باعث بنے گا۔

یہ انتباہ اس اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ فروری کے اختتام پر محصور اور تباہ حال غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی سرگرمیاں معطل کر دے گا، کیونکہ تنظیم نے اپنے فلسطینی ملازمین کے ناموں کی فہرست فراہم نہیں کی۔

تنظیم نے اس فیصلے کو انسانی امداد کو غزہ تک پہنچنے سے روکنے کا "بہانہ" قرار دیا ہے۔پیر کے روز جنیوا میں تنظیم کے صدر دفتر میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں لوکیئر نے کہا:صرف سال 2025 کے دوران ہم نے 8 لاکھ سے زائد طبی مشورے فراہم کیے، ایک لاکھ سے زیادہ زخمیوں کا علاج کیا اور غزہ میں 700 ملین لیٹر سے زائد پانی فراہم کیا۔

انہوں نے مزید کہا:ہم ایسے مرحلے پر ہیں جہاں فلسطینی عوام کو مزید انسانی امداد کی ضرورت ہے، کم امداد کی نہیں۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی سرگرمیوں کا رک جانا غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی انسانی تنظیموں پر عائد شرائط مزید سخت کر رہا ہے۔

اسرائیل نے جنوری کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ وہ مارچ کے آغاز سے غزہ میں کام کرنے والی 37 بین الاقوامی انسانی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرے گا، کیونکہ ان تنظیموں نے اپنے فلسطینی ملازمین کی فہرستیں فراہم نہیں کیں۔مارچ 2025 سے بین الاقوامی تنظیموں کے فلسطینی ملازمین اسرائیلی ہدایات کے تحت سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

لوکیئر نے وضاحت کی کہ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز دسمبر 2025 سے غزہ میں طبی سامان داخل نہیں کر سکی، جب سے اسرائیلی حکام کی جانب سے جاری کردہ ساٹھ روزہ انتباہ موصول ہوا۔

اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ تنظیم کو 28 فروری تک غزہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ تنظیم اپنے مقامی ملازمین کی فہرست فراہم کرنے میں ناکام رہی، حالانکہ یہ شرط علاقے میں کام کرنے والی تمام انسانی تنظیموں پر لاگو ہوتی ہے۔

اسرائیل نے تنظیم پر اس حوالے سے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹنے کا الزام بھی عائد کیا۔اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کے دو ملازمین کا تعلق حماس اور اسلامی جہاد سے ہے، جس کی ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے سختی سے تردید کی ہے۔

منظم مہم

تنظیم نے اتوار کے روز اسرائیلی اعلان کے جواب میں کہا کہ اس نے اپنے ملازمین کے نام اس لیے فراہم نہیں کیے کیونکہ اسرائیلی حکام نے ان کی سلامتی، ذاتی معلومات کے تحفظ اور طبی سرگرمیوں کی خودمختاری کے لیے کوئی ٹھوس ضمانت نہیں دی۔

تنظیم کے مطابق یہ فیصلہ انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کا بہانہ ہے اور اسرائیل انسانی تنظیموں کو ایک ناممکن انتخاب کی طرف دھکیل رہا ہے:یا تو اپنے ملازمین کو خطرے میں ڈالیں یا شدید ضرورت مند لوگوں کو ہنگامی طبی امداد فراہم کرنا بند کر دیں۔لوکیئر نے زور دیا کہ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز اور دیگر انسانی تنظیموں کو ایک "ناممکن انتخاب" پر مجبور کیا جا رہا ہے،یعنی عملے کی سلامتی اور مریضوں کے علاج میں سے کسی ایک کا انتخاب۔

تنظیم نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے غیر معمولی طور پر" ملازمین کے نام فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی، مگر بعد میں عملے کی سلامتی کی ضمانت نہ ملنے پر اس فیصلے سے دستبردار ہو گئی۔

تنظیم کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران غزہ میں 1700 طبی کارکن مارے جا چکے ہیں، جن میں اس کے اپنے 15 ملازمین بھی شامل ہیں۔

لوکیئر نے بتایا کہ تنظیم مارچ 2025 سے اسرائیلی حکومت کے ساتھ ملازمین کی فہرستوں کے معاملے پر بات چیت کی کوشش کر رہی ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ اس مطالبے کا مقصد کیا ہے اور کس قسم کی ضمانتیں دی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ انسانی تنظیموں کو ان ضمانتوں کا مطالبہ کرنے کا پورا حق اور فرض حاصل ہے، لیکن گزشتہ ہفتے واضح ہو گیا کہ ملازمین کی سلامتی سے متعلق کوئی ضمانت فراہم نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے گذشتہ مہینوں کے دوران تنظیم کے خلاف چلائی جانے والی ایک "منظم مہم" پر بھی تنقید کی، جس کا مقصد اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔لوکیئر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ انسانی تنظیموں کے خلاف عائد کی جانے والی تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں