ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ یہ ایرانی انکار جمعہ کے روز ہونے والے مذاکرات کے دوران سامنے آیا جب دونوں ملکوں کے نمائندے ماہ جون کے چند ماہ بعد ہی ایک بار پھر غیر معمولی کشیدگی کا شکار ہوئے اور معاملہ ایک نئی جنگ کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے فریقین نے مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
جمعہ کے روز مذاکرات کا یہ دور عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوا۔ جہاں علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک سفارتکار نے بتایا۔ اس سفاتکار کا کہنا تھا ایران کا موقف یہ سامنے آیا ہے کہ وہ بات چیت کرنے کو تیار تھا کہ یورینیم افزودگی کی سطح کیا ہو سکتی ہے یا ہونی چاہیے مگر مکمل طور پر یورینیم افزودگی کو روکنے کو راضی نہیں ہے۔
اس سفارت کار کے مطابق ایران کو یقین ہے کہ امریکی مذاکرات کار کے لہجے اور انداز سے لگتا تھا کہ وہ یورینیم افزودگی کے بارے میں ایرانی موقف کو سمجھتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے امریکی مذاکرات کاروں نے ایرانی مطالبات کے بارے میں لچک ظاہر کی۔
سفارتکار نے مزید کہا مسقط مذاکرات کے دوران ایرانی اہلیت پر بات بالکل نہیں ہوئی کہ ایران کتنی یورینیم افزودہ کرنے کی اب بھی صلاحیت رکھتا ہے۔
خیال رہے جون 2025 میں سہ فریق جنگ میں اسرائیل کے ساتھ امریکی بمبار طیاروں نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے بد ترین بمباری کی تھی اور بعد ازاں امریکہ کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ ایرانی جوہری بم بنانے کی صلاحیت کو تباہ کر کے کئی سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے جمعہ کے روز کہا امریکہ کے ساتھ جوہری ایشو پر اومانی ثالثی میں بات چیت ایک اچھا آغاز ہے۔ ایران مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کو بھی تیار ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس آغاز پر اچھے تبصرے کیے جائیں ۔ کیونکہ مذاکرات میں ناکامی خطے کو جنگ کے قریب کر سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے بعد کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ مذاکرات کو دھمکیوں اور دباؤ کے ماحول سے دور رکھا جائے۔
انہوں نے یہ بھی موقف دہرایا کہ ایران امریکہ کے ساتھ صرف جوہری ایشو پر بات چیت کرے گا کسی اور معاملے کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں زیر بحث نہیں لائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل یہ کہا تھا ایرانی سپریم لیڈر کو پریشان ہونا چاہیے۔ یہ خوش آئند بات رہی کہ فریقین نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔
امریکہ جوہری ایشوز کے علاوہ ایرانی بیلیسٹک میزائل پروگرام کو بھی روکنے کی خواہش رکھتا ہے اور یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ ایران خطے میں اپنی 'پراکسیز' کو مدد دینا بند کر دے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یہ نکات بدھ کے روز بھی بیان کیے تھے۔
امریکہ کا موقف واضح ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی سے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ریڈ لائن کو عبور کر سکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کو ایرانی بیلیسٹک میزائلوں سے بھی گہرا مسئلہ ہے۔ اگرجہ ایران اپنے میزائل پروگرام پر کوئی بات نہ کرنے کا موقف کئی بار سامنے لا چکا ہے۔
اتفاق سے ان تین کلیدی نوعیت کے مطالبات میں امریکہ نے ایرانی مظاہرین سے متعلق کوئی مطالبہ شامل نہیں کیا ہے۔ اس سے پہلے حالیہ کشیدگی کی لہر کی وجہ امریکہ مظاہرین کے خلاف ایرانی کریک ڈاؤن اور تشدد کو ہی بتاتا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایرانی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا یہ اچھا آغاز ہوا ہے۔ اگر یہ مذاکراتی عمل جاری رہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم افہام و تفہیم کے اچھے فریم ورک کی طرف بڑھ سکیں گے۔
ادھر ایرانی علما کی قیادت کو تشویش ہے کہ ٹرمپ اب بھی دھمکیوں اور دباو کی پالیسی کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ خصوصا ایرانی پانیوں کے نزدیک امریکی فوجی بلڈ اپ کے بعد ٹرمپ کی دھمکیاں اہم ہیں۔ جیسا کہ ٹرمپ کہہ چکے ہیں اگر معاہدہ نہ ہوا تو بری چیزیں ممکن ہو سکتی ہیں۔ وہ ایران پر دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہیں۔