سیف الاسلام کا جنازہ ان کی مقبولیت پر قومی ریفرنڈم ہے: سعدی قذافی

سیف مرنے کے بعد بھی الیکشن جیت گئے: بھائی، قذافی خاندان کا پہلا تبصرہ سامنے آگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا میں سعدی قذافی نے اپنے بھائی سیف الاسلام کے بارے میں کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد الیکشن جیت گئے ہیں۔ یہ ان کے جنازے پر ان کے خاندان کے کسی فرد کا پہلا تبصرہ تھا۔ سیف الاسلام کے جنازے میں سابق حکومت کے حامیوں اور دیگر سیاسی دھاروں سمیت ہزاروں لیبیائی باشندوں نے شرکت کی۔

سعدی قذافی نے اپنے "ایکس" پیج پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آج کا جنازہ لیبیا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہے، آج کا جنازہ سیف الاسلام کی مقبولیت پر ایک عوامی اور قومی ریفرنڈم ہے۔ سیف الاسلام مرنے کے بعد بھی الیکشن جیت گیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ان تصاویر کو بھی منسلک کیا جو سیف الاسلام کے جسدِ خاکی کو قبرستان لے جانے والے جم غفیر کی گواہی دے رہی تھیں۔

جمعہ کو سیف الاسلام قذافی کے جنازے میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی جو لیبیا کے تمام شہروں سے سخت حفاظتی پہرے میں آئے تھے۔ یہ جنازہ زنتان شہر میں ان کے گھر کے اندر ان کے قتل کے 3 دن بعد ہوا۔ جنازے میں شریک افراد نے سیف الاسلام قذافی کے قتل کے جرم کی مذمت میں نعرے لگائے اور اس جرم کے محرکات کی فوری اور شفاف تحقیقات اور قاتلوں سے بدلہ لینے کا مطالبہ کیا۔

سیف الاسلام کو بنی ولید شہر کے مناسلہ قبرستان میں ان کے بھائی خمیس قذافی کی قبر کے پاس دفن کیا گیا۔ خمیس 2011 کے انقلاب کے دوران مارے گئے تھے۔ سیف الاسلام نے 2021 میں شروع ہونے سے پہلے منسوخ ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کیا تھا جہاں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ان کی سیاسی میدان میں واپسی ان انتخابات کی منسوخی کی ایک بڑی وجہ تھی کیونکہ وہ سابق حکومت کے حامیوں کی حمایت سے ایک نمایاں امیدوار تھے۔ یاد رہے 4 نامعلوم مسلح افراد نے منگل کی شام طرابلس کے جنوب مغرب میں واقع شہر زنتان میں سیف الاسلام قذافی کو ان کے گھر میں قتل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں