ایران : یورینیم کی افزودگی ترک کرنے کے لیے امریکی دھمکیاں مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس امر کو مسترد کیا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو مذاکرات کے بعد ترک کر رہا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا تہران امریکہ کی طرف سے کسی جنگ کی دھمکی میں نہیں آئے گا۔ وزیر خارجہ نے اس امر کا اظہار تہران میں ایک فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں کہا کہ ہمیں امریکہ کے بارے میں بہت کم اعتماد ہے کہ امریکہ ان مذاکرات کے شروع کرنے سے قدرے سنجیدہ ہوا ہے۔ ہمارے امریکہ کے بارے میں شکوک اب بھی باقی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کیوں امریکہ کے کہنے پر یورینیم کی افزودگی کو روکیں۔ جبکہ پھر بھی امریکہ نے ہم پر جنگ مسلط کرنی ہے۔ کسی ملک کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ہم پر اپنی مرضی مسلط کرے۔

ہم امریکی فوج کی خطے میں تعیناتی سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ وہ یہ بات کرتے ہوئے بحیرہ عرب میں امریکی بحری بیڑے 'ابراہم لنکن' کا حوالہ دے رہے تھے۔

یاد رہے امریکہ اور ایران کے درمیان پچھلے سال جنگی صورتحال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جمعہ کے روز سے دونوں ملکوں نے ایرانی جوہری پروگرام پر دوبارہ سے مذاکرات شروع کیے ہیں۔

ایران جس پر عائد امریکی پابندیوں کی وجہ سے معیشت غیر معمولی طور پر کمزور ہوگئی ہے۔ چاہتا ہے کہ یہ پابندیاں ہٹ جائیں۔ اس امر کا ذکر کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا لیکن دو طرفہ اعتماد کی بحالی کے لیے امریکہ کو کئی اقدامات کرنا ہوں گے۔

مغربی ممالک اور اسرائیل یہ خیال کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں صرف ایران ایک ایسا ملک ہے جو جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش میں ہے۔ تاہم ایران اس کی تردید کرتا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا وہ ہمارے جوہری بم سے خوفزدہ ہیں جبکہ ہم اس کی کوشش نہیں کر رہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ امن صرف طاقت کے ذریعے آسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب امریکی مذاکرات کار سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے مذاکرات کے اگلے ہی روز بحیرہ عرب میں امریکی بحری بیڑے کا دورہ کیا اور ایران کو فوجی خطرے کی خاموش دھمکی دی کہ اب بھی ایران کے لیے جنگی خطرہ موجود ہے۔

اس دورے کی امریکی سنٹرل کمانڈ نے بھی تصدیق کی کے اور کہا ہے کہ دو اعلیٰ عہدیداروں نے جوہری ہتھیاروں سے مسلح بحری بیڑے کا دورہ کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ

صدر ٹرمپ ںے ایران کے ساتھ جمعہ کے روز ہونے والے مذاکرات کو بہت اچھا قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ابھی مذید مذاکرات کی توقع ہے۔

سٹیو وٹکوف نے کہا کہ بحری بیڑہ اور اس پر موجود سٹرائیک گروپ ہمیں محفوظ بنائے ہوئے ہے اور صدر کے اس پیغام کو واضح کر رہا ہے کہ امن طاقت کے ساتھ۔

ادھر تہران میں گفتگو کرتے ہوئے اتوار کے روز عباس عراقچی نے کہا امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف پابندیوں کی موجودگی اور فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں امریکی سنجیدگی کے حوالے سے شکوک پیدا کرتی ہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں مذاکرات چاہتا بھی ہے کہ نہیں۔ ہم صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں اور تمام ملنے والے اشاروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہمارا فیصلہ مذاکرات کو جاری رکھنے کے حق میں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں