سعودی عرب: کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینلز کی آپریشنل منتقلی کا آغاز

ٹرمینل 1 اور 2 قومی ائیرلائنز کی بین الاقوامی پروازوں، 3 اور قومی پروازوں کے لیے مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جس کا انتظام اور آپریٹنگ ریاض ایئرپورٹس کمپنی کے پاس ہے، نے ایئرپورٹ کے بڑے سٹریٹجک تبدیلی کے منصوبے کے ایک نئے مرحلے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ یہ عمل رواں سال 16 سے 25 فروری کے دوران ٹرمینلز کے درمیان آپریشنل منتقلی کے منصوبے کے ضمن میں ہو رہا ہے جسے دو مسلسل مرحلوں اور بتدریج طریقہ کار کے تحت مکمل کیا جائے گا۔

آپریشنل منتقلی کے منصوبے میں موجودہ ٹرمینلز کے درمیان فضائی کمپنیوں کی پروازوں کی دوبارہ تقسیم شامل ہے۔ ٹرمینل 1 اور 2 کو قومی ایئر لائنز کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ٹرمینل 3 اور 4 قومی ایئر لائنز کی داخلی پروازوں کے لیے مخصوص ہوں گے اور ٹرمینل نمبر 5 غیر ملکی ایئر لائنز کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔

یہ اقدام داخلی اور بین الاقوامی پروازوں کے ٹرمینلز کو جوڑنے والی راہداری کے ذریعے منتقلی کے وقت کو کم کرے گا۔ اس سے انتظار کی مدت میں کمی آئے گی اور ایئرپورٹ کے ذریعے سفر کے تجربے پر مثبت اثر پڑے گا۔ ریاض ایئرپورٹس کے بیان کے مطابق منتقلی کی باقی تفصیلات اور عملدرآمد کے طریقہ کار کا اعلان مراحل کے دوران وقتاً فوقتاً کیا جائے گا۔

ٹرمینلز کی منتقلی کا یہ عمل کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی گنجائش بڑھانے اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ٹرمینل 3 اور 4 کو قومی ایئر لائنز کی داخلی پروازوں کے لیے تبدیل کرنے کا منصوبہ ان کی گنجائش کو سابقہ 16 ملین مسافروں سے بڑھا کر سالانہ 25 ملین مسافروں تک لے جائے گا۔ یہ دارالحکومت کے ایئرپورٹ کی توسیع کے اس پروگرام کا حصہ ہے جس کا ہدف 2026 کے آخر تک مجموعی گنجائش کو 56 ملین مسافروں تک پہنچانا ہے۔

اسی تناظر میں منتقلی کے منصوبے مسافروں کے تجربے میں نمایاں بہتری اور ٹرمینل 1 سے 4 تک قومی ایئر لائنز کی داخلی و بین الاقوامی پروازوں کی آپریشنل کارکردگی بڑھانے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ منصوبہ ٹرمینلز کے درمیان منتقلی کے وقت کو کم کرنے، داخلی اور بین الاقوامی پروازوں کے درمیان رابطے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ٹرانزٹ اور کنیکٹنگ پروازوں کے مسافروں کی گنجائش کو سالانہ 7.5 ملین تک بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں