یوکرین جنگ کے سائے میں روس کی افرادی قوت بڑھانے کی کوششوں سے متعلق ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ بدھ کو جاری ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کم از کم 1417 افریقی شہریوں کو روسی فوج میں شامل کیا گیا، جن میں سے 300 سے زائد محاذِ جنگ پر جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس سے اس بھرتی مہم کے دائرہ کار اور اثرات پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
نیٹ ورک نے پہلی بار ان افراد کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی ہے۔یہ فہرست نیٹ ورک کو یوکرینی پروگرام ''آئی وانٹ ٹو لِو'' کے ذریعے حاصل ہوئی، جو روسی فوجیوں کو بغاوت کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
اس فہرست سے افریقی براعظم میں ہونے والی بھرتیوں کے حجم کا اندازہ ہوتا ہے۔فہرست میں 35 افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے 1417 افراد کے نام شامل ہیں، جنہیں جنوری 2023 سے ستمبر 2025 کے درمیان روسی فوج میں بھرتی کیا گیا۔ ان میں سے 316 افراد محاذِ جنگ پر مارے گئے۔ تاہم نیٹ ورک کے مطابق یہ فہرست ممکنہ طور پر مکمل نہیں اور اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''افریقی شہریوں کی بھرتی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچا سمجھا اسٹریٹجک ستون ہے''، کیونکہ جنگ کے تسلسل کے ساتھ ماسکو کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ بھرتیاں مصر (361 افراد)، کیمرون (335) جو سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانے والا ملک بھی ہے اور گھانا (234) سے ہوئیں۔
ان افراد کو سرحد پار نیٹ ورکس کے ذریعے بھرتی کیا گیا، جو براعظم میں موجود سماجی و معاشی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔کم از کم 45 کینیا کے شہری بھی روسی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے مارے گئے۔
نیروبی نے منگل کے روز کہا کہ اس کے شہریوں کو گمراہ کر کے ''جنگی ایندھن ''کے طور پر استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے اور اعلان کیا کہ کینیا کی وزارتِ خارجہ مارچ میں ماسکو وفد بھیجے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھرتی کرنے والے خاص طور پر ایسے نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہیں ،جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، بیرونِ ملک روزگار کے خواہاں ہوتے ہیں یا غیر قانونی طور پر ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔
اگرچہ بعض افراد کو دھوکے یا زبردستی بھرتی کیا جاتا ہے، لیکن کچھ رضاکارانہ طور پر بھی شامل ہوتے ہیں کیونکہ وہ اور ان کے اہلِ خانہ شدید معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، جو انہیں اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے تک پر آمادہ کر دیتی ہیں۔ یہ بات ''آل آئیز آن ویگنر'' کی لو اوسبورن نے کہی۔
بھرتی کا عمل آن لائن اشتہارات، افریقی ممالک میں قائم سفری ایجنسیوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور سابق جنگجوؤں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔اگرچہ پیش کی جانے والی پیشکشیں پُرکشش ہوتی ہیں، مگر اکثر غیر حقیقی ثابت ہوتی ہیں۔ بھرتی بونس 20 سے 30 ہزار امریکی ڈالر تک بتایا جاتا ہے، جبکہ ماہانہ تنخواہ تقریباً 2500 ڈالر ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ 3 سے 6 ماہ کی سروس کے بعد روسی شہریت اور روس میں اعلیٰ فوجی تربیت کا وعدہ بھی کیا جاتا ہے۔یوکرین میں روسی افواج میں ہزاروں غیر ملکی شامل ہو چکے ہیں۔ بھرتی کے لیے ماسکو نے قازقستان، تاجکستان اور کیوبا جیسے ممالک کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات سے فائدہ اٹھایا، جبکہ نیپال، سری لنکا، عراق اور کئی افریقی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کو بھی استعمال کیا۔