امریکہ کے دورے کی دعوت ملنے کے بعد وینزویلا کی عبوری صدر کا واشنگٹن کے دورے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وینزویلا کی قائم مقام صدر ديلسی روڈریگز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نکولس مادورو اب بھی ملک کے قانونی صدر ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مادورو اور خاتون اول سیلیا فلورس بے گناہ ہیں۔

روڈریگز جو مادورو کی گرفتاری سے قبل ان کے خلاف امریکی دھمکیوں کی شدید نقاد رہی ہیں، انہوں نے آج جمعرات کو ’این بی سی‘ نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں واشنگٹن کا دورہ کرنے کی امریکی دعوت موصول ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امریکہ آنے کی دعوت دی گئی ہے اور ہم اس تعاون کی بنیادیں رکھنے اور تمام معاملات میں آگے بڑھنے کے بعد وہاں جانے پر غور کر رہے ہیں۔

شاندار تعاون

یہ بیانات امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے گذشتہ روز کراکس کے دورے کے بعد سامنے آئے ہیں جہاں انہوں نے اپنے ملک اور روڈریگز کے درمیان تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گذشتہ پانچ ہفتوں سے ڈیلسی کے ساتھ رابطے میں ہیں اور یہ ایک شاندار تعاون رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عبوری صدر نے اقتدار سنبھالنے کے ابتدائی ہفتوں کے دوران ملک میں ہائیڈرو کاربن قانون میں ترمیم سمیت زبردست مثبت تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا آغاز بہت ہی شاندار رہا ہے۔

کرس رائٹ نے بتایا کہ ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کا وینزویلوی تیل پہلے ہی فروخت کیا جا چکا ہے جبکہ آنے والے مہینوں میں مزید پانچ ارب ڈالر کی فروخت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے برسوں سے وینزویلا کے تیل کی برآمد پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔

یاد رہے کہ امریکہ نے تین جنوری سنہ 2026 ء کو ایک تیز رفتار آپریشن کے دوران کمانڈوز کی مدد سے صدر مادورو کو گرفتار کر لیا تھا اور انہیں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ منتقل کر دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینز ویلا کی نائب صدر جو اب عبوری صدر ہیں کو بھی اسی طرح کے انجام کی دھمکی دی ہے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی سمیت منشیات کی سمگلنگ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے برآمدات کی دوبارہ اجازت دینے کے بدلے کراکس پر تیل کے شعبے میں تعاون کے لیے دباؤ بھی ڈالا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں