عجیب و غریب ... جب اسپین کے مشہور ترین وزیر اعظم کو اخبار پڑھتے ہوئے قتل کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انیسویں صدی کے آخر میں برِ اعظم یورپ شدید سیاسی اتار چڑھاؤ کی زد میں تھا، جہاں انارکسٹ تحریکوں کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا جنہوں نے کئی اہم یورپی سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا۔

سال1894 میں فرانسیسی صدر سادی کارنو کو لیون میں ایک اطالوی شہری نے قتل کیا، جبکہ 1898 میں آسٹریا کی ملکہ الزبتھ بھی ایک حملے میں ہلاک ہوئیں۔ اسی دوران 1897 میں اسپین کے وزیر اعظم انتطونيو كانوفاس ديل كاستيو کو ایک تفریحی مقام پر انتہائی عجیب و غریب طریقے سے قتل کر دیا گیا۔

سال1896 میں بارسلونا دھماکے کے بعد ہسپانوی حکام نے کئی انارکسٹ کارکنوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے یورپ بھر کی تحریکوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اطالوی انارکسٹ ميشال انجيوليلو نے ہسپانوی وزیر اعظم کو قریب سے نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا۔

اگلے سال8 اگست 1897 کو وزیر اعظم ديل كاستيو موندراگون شہر کے "سانتا اگواڈا" ریزورٹ میں موجود تھے۔ مذہبی تقریب میں شرکت اور وزیر داخلہ کو ٹیلی گرام بھیجنے کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ کھانے کے کمرے کی طرف بڑھے۔ وہاں ان کی اہلیہ کسی دوسری خاتون سے گفتگو میں مصروف ہو گئیں، جس پر ديل كاستيو ایک بینچ پر بیٹھ کر اخبار "La Época" پڑھنے لگے۔ اس دوران انجيوليلو، جو صحافی کے روپ میں وہاں موجود تھا، ڈیڑھ میٹر کے فاصلے سے آگے بڑھا اور ان پر تین گولیاں چلا دیں۔ کسی سکیورٹی کے بغیر موجود وزیر اعظم ایک گھنٹے بعد دم توڑ گئے۔

حملہ آور کو فوری گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا اور 20 اگست کو اسے سزائے موت دے دی گئی۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی اور عالمی اخبارات میں ایک خفیہ عالمی انارکسٹ تنظیم کے وجود پر بحث چھڑ گئی۔

واضح رہے کہ 1828 میں پیدا ہونے والے انتونيو ديل كاستيو 19ویں صدی کے اسپین کی اہم ترین سیاسی شخصیت مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 1874 میں بوربون خاندان کے اقتدار میں واپسی اور پہلی جمہوریہ کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ملک میں آئینی بادشاہت اور دو جماعتی نظام متعارف کرایا۔ تاہم ان کا دور اقتدار تنازعات سے بھی بھرپور رہا، جہاں انہوں نے کاتالونیا اور باسک کے علاقوں میں قوم پرست تحریکوں کو سختی سے کچلا اور کیوبا میں آزادی کی تحریکوں اور سماجی غربت جیسے سنگین بحرانوں کا سامنا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں