سعودی عرب کے اٹارنی جنرل خالد الیوسف کی زندگی کے پہلوؤں سے آگاہی
ان کا نام عدالتی کارروائی کو تیز کرنے کے لیے اصلاحی مراحل سے وابستہ ہے
سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے آج شاہی فرامین جاری کیے ہیں جن میں ڈاکٹر خالد الیوسف کو وزیر کے عہدے کے برابر اٹارنی جنرل (نائب عام) مقرر کیا گیا ہے۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سعودی عرب کے نئے اٹارنی جنرل کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ ایڈمنسٹریٹو کورٹ اور انتظامی عدالتی کونسل کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز دیوانِ مظالم میں بطور جج کیا اور انتظامی، تجارتی، تادیبی اور فوجداری عدالتوں میں فرائض سرانجام دیے ہیں۔ وہ دیوان کے اندر ہی مختلف قائدانہ عہدوں پر فائز رہے یہاں تک کہ اس کے سربراہ بن گئے۔
نئے اٹارنی جنرل نے امام محمد بن سعود یونیورسٹی سے شریعہ میں بیچلرز کیا اور پھر ہائر جوڈیشل انسٹی ٹیوٹ سے اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھی جہاں انہوں نے "سٹمز" میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا عنوان انتظامی فیصلوں پر انتظامی عدالت کی نگرانی - ایک تقابلی مطالعہ تھا۔
دیوانِ مظالم میں اپنے دور کے دوران ان کا نام ایک نمایاں ادارہ جاتی ترقی کے مرحلے سے وابستہ رہا جس میں مقدمات کی سماعت کے طریقہ کار کو تیز کرنا، ڈیجیٹل تبدیلی کے دائرہ کار کو بڑھانا اور عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات شامل تھے۔ ان کے دور میں عدالتی شعبے کی ترقی کے اہداف کے مطابق مانیٹرنگ اور کارکردگی کی پیمائش کے آلات کو بھی مضبوط کیا گیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے ملازمتوں میں ترقی اور داخلی تبادلوں کی کمیٹیوں کی سربراہی کی اور عدلیہ اور انتظامی عہدوں پر تقرری کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز لینے والی کمیٹیوں کے رکن رہے۔ وہ تربیتی و ترقیاتی کمیٹی کے رکن، دیوانِ مظالم کے اسٹریٹجک پلان اور کارکردگی کے نظام کی تیاری کے لیے ورکنگ ٹیم کا حصہ، اور عدالتی فیصلوں کی الیکٹرانک آرکائیونگ اور ان کی درجہ بندی و اشاعت کی نگرانی کرنے والی ٹیموں کے رکن بھی رہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق الیوسف کو 2002 میں دیوانِ مظالم میں جج کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ انہوں نے مختلف عدالتوں میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بے شمار متنوع فیصلے جاری کیے۔ انہوں نے دیوانِ مظالم میں کئی عدالتی چیمبرز کی سربراہی کی اور ٹیکنیکل افیئرز آفس کے رکن رہے، جو قانونی آراء دینے، تحقیق و مطالعہ اور عدالتی اصولوں کی درجہ بندی کا ذمہ دار ہے۔ مزید برآں، وہ دیوانِ مظالم میں فیصلہ سازی کے معاون مرکز کے جنرل سپروائزر بھی رہے اور سپریم ایڈمنسٹریٹو کورٹ کے صدر کے دفتر کے جنرل سپروائزر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔