پتھروں پر نقش تصاویر: 10 ہزار سال پہلے جنوبی سینا کے باشندے کیسے رہتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصر نے جنوبی سینا میں ایک نئی آثارِ قدیمہ کی سائٹ دریافت کی ہے جس میں چٹانی نقوش اور تصاویر موجود ہیں۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق 10 ہزار سے 5500 قبل مسیح کے درمیانی عرصے سے بتایا گیا ہے۔ ان تصاویر میں مختلف جانوروں کے مناظر دکھائے گئے ہیں جو ان قدیم ادوار کی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ مصری وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا کہ یہ مقام جسے ’’ ہضبہ ام عراک ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سرابیط الخادم کے قریب صحرائی علاقے میں واقع ہے اور یہ برسوں میں ملک میں چٹانی فن کی اہم ترین دریافتوں میں سے ایک ہے۔

قدرتی چٹانی پناہ گاہ

بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ اس سائٹ میں ریتلے پتھر سے بنی ایک قدرتی چٹانی پناہ گاہ ہے جو سطح مرتفع کے مشرقی جانب 100 میٹر سے زیادہ طوالت پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی گہرائی 2 سے 3 میٹر کے درمیان ہے جبکہ اس کی چھت کی بلندی ڈیڑھ میٹر سے بتدریج کم ہو کر نصف میٹر تک رہ جاتی ہے۔ آثارِ قدیمہ کے سروے کے دوران چقماق کے پتھر سے بنے کچھ اوزار اور مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے بھی ملے ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعلق وسطی سلطنت کے عہد سے بتایا جاتا ہے جبکہ کچھ کا تعلق تیسری صدی عیسوی کے رومی عہد سے ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ مقام ہزاروں سال تک مسلسل زیرِ استعمال رہا۔

ایک کھلا قدرتی عجائب گھر

وزیرِ سیاحت و آثارِ قدیمہ شریف فتحی نے کہا کہ یہ دریافت مصر کی اس اہم زمین پر ہزاروں سال کے دوران تہذیبوں کے تسلسل کا ایک نیا ثبوت ہے۔ سپریم کونسل آف اینٹیکیٹیز کے سیکرٹری جنرل ہشام اللیثی نے بتایا کہ اس مقام پر نقوش کی متعدد تہیں موجود ہیں جو قبل از تاریخ سے لے کر اسلامی ادوار تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ اسے ایک کھلا قدرتی عجائب گھر بناتا ہے جو قبل از تاریخ سے اسلامی دور تک انسان کے فنکارانہ اور علامتی اظہار کے ارتقا کی دستاویز پیش کرتا ہے، جس سے اس مقام کو غیر معمولی سائنسی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ ان نقوش میں سرخ روشنائی سے بنی تصاویر کے ساتھ ساتھ کھدائی کر کے بنائی گئی تصاویر بھی شامل ہیں جن میں شکار کے مناظر اور مختلف جانور دکھائے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں