برطانیہ : 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی پر تیزی سے غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانیہ میں بھی آسٹریلیا کی طرح 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگائے جانے پر تیزی سے غور شروع کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں بھی کچھ سقم باقی ہیں۔ جن کو دور کرنا ہے تاکہ اے آئی چیٹ بوٹس سے متعلق بچوں کے تحفظ کے قوانین کو بہتر کیا جا سکے۔ یہ حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت بچوں اور خاص طور پر سکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے ڈیجیٹل میڈیا سے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

وزیراعظم کیر سٹارمر کی حکومت نے اس سلسلے میں پچھلے ماہ مشاورت کا آغاز کیا تھا تاکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اور سوشل میڈیا سے متعلق آلات کے استعمال کو محدود کیا جا سکے اور بچوں کی توجہ موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی سکرینوں سے ہٹا کر واپس تعلیم اور ان کی صحت کی طرف مبذول کرائی جائے۔

اگلے چند مہینوں میں یہ مشاورتی عمل مکمل ہوجائے گا اور فیصلہ ممکن ہو جائے گا۔ اس سے قبل سپین، یونان اور سلووینیا بھی اسی طرح کی پابندیوں کا سوچ رہے ہیں جبکہ آسٹریلیا پہلا ملک ہے جس نے اپنے بچوں کا مستقبل سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر لیا ہے اور 16 سال تک کے بچوں کی اے آئی چیٹ بوٹ تک رسائی ممنوع قرار دے دیا ہے۔

خیال رہے دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے اندھے استعمال کے خلاف کافی ردعمل سامنے آرہا ہے کیونکہ اس سے نئی نسل کے صحت و تعلیم پر منفی اثرات تیزی سے پیدا ہو رہے ہیں جبکہ سماجی سطح پر بھی بعدازاں مسائل کا سامنا بڑھ سکتا ہے۔

برطانیہ کی ٹیکنالوجی سے متعلق وزیر لیز کنڈال کا کہنا ہے کہ مشاورت میں سامنے آنے والے امور پر غور ہو رہا ہے اور ایسے سقم باقی ہیں جنہیں ابھی دور کرنا ہے۔

کنڈال نے ٹائمز ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مجھے بہت تشویش ہے کہ نوعمر بچے اور بچیاں اے آئی چیٹ بوٹ سے جڑ رہے ہیں اور اس کے اثرات اچھی نہیں آرہے۔ اس لیے بچوں کی صحت کے لیے ہم یہ سب کرنا چاہ رہے ہیں۔

وزیر ٹیکنالوجی نے کہا کہ حکومت ماہ جون سے پہلے ان مرتب شدہ تجاویز کو عوام کے سامنے لائے گی۔

پیر کے روز لیز کنڈال نے میڈیا سے گفتگو کی کہ ٹیکنالوجی سے متعلق کمپنیوں کو اس امر کا پابندی بنایا جائے گا کہ وہ برطانیہ میں بننے والے نئے سوشل میڈیا قوانین کے مطابق اپنے مواد اور اپنی ریچ کو از سر نو دیکھیں۔

انہوں نے کہا کہ مشاورت کا یہ عمل ہمہ جہت ہے اور ہر شعبے کے لوگوں سے اس پر بات چیت جاری ہے۔ ہم ایسے قوانین بنانا چاہتے ہیں کہ جس سے ان کی تعلیم پر توجہ بڑھے اور ان کی صحت متاثر نہ ہو جو الٹی میٹلی ہمارے سماج کے لیے بہتر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں