مشہور اینکر کا الزام: گوگل نے AI سے میری آواز کی نقل تیار کر لی
امریکی اینکر اور تجربہ کار میزبان ڈیوڈ گرین نے گوگل کے خلاف یہ الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا ہے، کہ کمپنی نے اپنی NotebookLM نامی AI ٹول میں اس کی آواز کے بہت قریب ایک صوتی ماڈل استعمال کیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق گرین جو برسوں تک NPR پر Morning Edition پروگرام پیش کرتے رہے، نے کہا کہ انہیں اس وقت شک ہوا، جب دوستوں، ساتھیوں اور اہل خانہ نے انہیں متعدد پیغامات بھیجے جن میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ AI کی آواز اور ان کی اصلی آواز میں غیر معمولی مشابہت ہے۔
گرین نے بتایا کہ AI کے ذریعے تیار شدہ آواز نہ صرف اس کی آواز جیسی ہے، بلکہ اس کے لہجے، لہجہ اور بعض جملوں میں ''uh'' جیسے اظہار تک اس کی نقل کرتی ہے۔
ان کے مطابق ان کی آواز ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔اس وقت گرین KCRW اسٹیشن پرLeft Right and Right پروگرام کے میزبان ہیں۔
گوگل کی NotebookLM ٹول صارفین کو AI کے ذریعے پوڈکاسٹ نما مواد تیار کرنے کی سہولت دیتا ہے، جہاں ورچوئل میزبان پیش کیے جاتے ہیں۔
تاہم کمپنی نے اس الزام کی تردید کی ہے اور ایک بیان میں کہا کہAudio Overviewsمیں موجود مردانہ آواز ایک پیشہ ور اداکار کے ذریعہ فراہم کی گئی ہے جس سے مالی معاوضہ لیا گیا ہے اور اس کا گرین سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ کیس دوبارہ اس بحث کو اجاگر کرتا ہے کہ صوتی مواد پیدا کرنے والی تکنیکیں اور آواز کے حقوق، ذاتی شناخت اور ملکیت کے مسائل کس حد تک قانونی اور اخلاقی چیلنج پیدا کر سکتے ہیں۔
پہلے بھی اسی طرح کے تنازعات سامنے آئے ہیں، جیسے کہ OpenAI کو Scarlett Johansson کی اعتراض کے بعد ChatGPT کی ایک آواز ہٹانا پڑی تھی، کیونکہ وہ اداکارہ کے غیر مجاز اداکاری کی نقل کرتی تھی۔جیسے جیسے آواز کی نقل کرنے والی تکنیکیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، لگتا ہے کہ مستقبل میں ایسے قانونی تنازعات میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر جب تکنیکی کمپنیاں AI کی مدد سے میڈیا اور صوتی مواد کی تیاری کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔