دُنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ جمعہ کے روز بحیرہ روم میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر فوجی تعیناتی میں اضافے کے تناظر میں امریکی عسکری قوت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے جس سے ایران پر ممکنہ حملے کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔
ذیل میں مشرق وسطیٰ یا اس کے قرب و جوار میں موجود اہم امریکی فوجی ساز و سامان کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔
بحری بیڑے
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن نے اس وقت مشرق وسطیٰ میں 13 جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں جن میں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن، نو ’ڈسٹرائرز‘ اور تین ساحلی جنگی جہاز شامل ہیں۔
جمعہ کے روز لی گئی ایک تصویر میں طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ کو تین ڈسٹرائرجہازوں کی معیت میں آبنائے جبل الطارق عبور کرتے ہوئے بحیرہ روم کی جانب بڑھتے دیکھا گیا ہے۔ اس جہاز کے اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی جنگی جہازوں کی تعداد 17 ہو جائے گی۔
F/A-18 Super Hornets from Strike Fighter Squadron 14 land on the deck of USS Abraham Lincoln (CVN 72) in the Arabian Sea. When launched from a catapult an aircraft carrier, the Super Hornet can go from a full stop to airborne in under 3 seconds. pic.twitter.com/0mRLNMiwuJ
— U.S. Central Command (@CENTCOM) February 18, 2026
ان دونوں طیارہ بردار جہازوں پر ہزاروں ملاحوں پر مشتمل عملہ اور درجنوں جنگی طیاروں کے فضائی ونگز موجود ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اس نوعیت کے دو بڑے جنگی جہازوں کا ایک ساتھ موجود ہونا ایک نادر واقعہ ہے۔
جنگی طیارے
طیارہ بردار جہازوں پر موجود طیاروں کے علاوہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں درجنوں دیگر جنگی طیارے بھی بھیجے ہیں۔ اوپن سورس انٹیلی جنس رپورٹس، فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ان میں ایف-22 ریپٹر، ایف-35 لائٹننگ، ایف-15، ایف-16 اور فضا میں ایندھن بھرنے والے کے سی-135 ٹینکر طیارے شامل ہیں۔
The Abraham Lincoln Carrier Strike Group, accompanied by two military supply ships, and two U.S. Coast Guard cutters, sailed together in the Arabian Sea today as aircraft from Carrier Air Wing 9 flew overhead. Peace through Strength! ⚓️ pic.twitter.com/xkiCk8qymB
— U.S. Central Command (@CENTCOM) February 6, 2026
فضائی دفاعی نظام
امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے زمینی فضائی دفاعی نظام کو بھی مزید مضبوط کر دیا ہے جبکہ گائیڈڈ میزائلوں سے لیس تباہ کن جہاز سمندر میں فضائی دفاع کی صلاحیت فراہم کر رہے ہیں۔
On the flight deck of an aircraft carrier, what looks like a random rush of jets and people is actually a well-orchestrated routine. Sailors aboard the USS Abraham Lincoln are trained to work as a team to launch and recover safely and on time, every time. pic.twitter.com/64ubKaG1wC
— U.S. Central Command (@CENTCOM) February 5, 2026
امریکی فوجی اڈے
اگرچہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی میں زمینی افواج کی شرکت کی توقع نہیں ہے تاہم امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے اڈوں پر ہزاروں فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں جو جوابی حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
تہران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے العدید پر میزائل داغے تھے جنہیں فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا تھا۔ یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب واشنگٹن نے سنہ 2025ء کے ماہ جون میں ان بارہ دنوں کے دوران ایران کی تین ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جو اسرائیل کے ایران پر اچانک حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کا حصہ تھی۔
-
ایران کا انتباہ: اگر حملے ہوئے تو امریکی فوجی مراکز، اثاثہ جات 'جائز اہداف' ہوں گے
امریکہ کو متحارب رویے سے روکا جائے: سلامتی کونسل سے ایران کا مطالبہ
مشرق وسطی -
ایران پر محدود فوجی حملے پر غور کر رہا ہوں: امریکی صدر
ٹرمپ کے مطالبات پورے کرنے والے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں: ...
بين الاقوامى -
ایران میں ہلاکتوں کےدوران کی اموات بارے ہمارے ڈیٹا پرشک ہےتو ثبوت لائیں:ایرانی وزیر خارجہ
امریکی صدر کا دعویٰ تھا کہ ایران میں مظاہروں کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے
مشرق وسطی