ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دُنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ جمعہ کے روز بحیرہ روم میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر فوجی تعیناتی میں اضافے کے تناظر میں امریکی عسکری قوت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے جس سے ایران پر ممکنہ حملے کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔

ذیل میں مشرق وسطیٰ یا اس کے قرب و جوار میں موجود اہم امریکی فوجی ساز و سامان کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔

بحری بیڑے

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن نے اس وقت مشرق وسطیٰ میں 13 جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں جن میں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن، نو ’ڈسٹرائرز‘ اور تین ساحلی جنگی جہاز شامل ہیں۔

جمعہ کے روز لی گئی ایک تصویر میں طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ کو تین ڈسٹرائرجہازوں کی معیت میں آبنائے جبل الطارق عبور کرتے ہوئے بحیرہ روم کی جانب بڑھتے دیکھا گیا ہے۔ اس جہاز کے اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی جنگی جہازوں کی تعداد 17 ہو جائے گی۔

ان دونوں طیارہ بردار جہازوں پر ہزاروں ملاحوں پر مشتمل عملہ اور درجنوں جنگی طیاروں کے فضائی ونگز موجود ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اس نوعیت کے دو بڑے جنگی جہازوں کا ایک ساتھ موجود ہونا ایک نادر واقعہ ہے۔

جنگی طیارے

طیارہ بردار جہازوں پر موجود طیاروں کے علاوہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں درجنوں دیگر جنگی طیارے بھی بھیجے ہیں۔ اوپن سورس انٹیلی جنس رپورٹس، فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ان میں ایف-22 ریپٹر، ایف-35 لائٹننگ، ایف-15، ایف-16 اور فضا میں ایندھن بھرنے والے کے سی-135 ٹینکر طیارے شامل ہیں۔

فضائی دفاعی نظام

امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے زمینی فضائی دفاعی نظام کو بھی مزید مضبوط کر دیا ہے جبکہ گائیڈڈ میزائلوں سے لیس تباہ کن جہاز سمندر میں فضائی دفاع کی صلاحیت فراہم کر رہے ہیں۔

امریکی فوجی اڈے

اگرچہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی میں زمینی افواج کی شرکت کی توقع نہیں ہے تاہم امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے اڈوں پر ہزاروں فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں جو جوابی حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔

تہران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے العدید پر میزائل داغے تھے جنہیں فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا تھا۔ یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب واشنگٹن نے سنہ 2025ء کے ماہ جون میں ان بارہ دنوں کے دوران ایران کی تین ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جو اسرائیل کے ایران پر اچانک حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کا حصہ تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں