تونس: رکن پارلیمنٹ کو صدر پر تنقید کرنے پر آٹھ ماہ قید
تونس کے صدر قیس سعید پر تنقید کرنے پر ایک رکن پارلیمان کو جیل کی ہوا کھانا پڑ رہی ہے۔
اس جرم میں رکن پارلیمینٹ احمد سعیدانی 8 ماہ تک جیل میں رہیں گے۔ انہیں اسی مہینے سوشل میڈیا پر صدر کے خلاف ایک پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ پوسٹ صدر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے سے متعلق تھی۔
صدر قیس سعید کے اس سیلاب متاثرہ علاقے کے دورے پر ان دنوں کافی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہیں۔
پارلیمان کے رکن صدر قیس سعید کو سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں 'سپریم کمانڈر آف سینیٹیشن اینڈ سٹارم واٹر ڈرینج' کا لقب دیا تھا۔
سعیدانی کے وکیل کے مطابق ان کے مؤکل کو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس پوسٹ کی بنیاد پر مؤکل کے خلاف ٹیلی کمیونیکیشن قانون کے تحت مقدمہ بنایا گیا تھا۔
اس قانون کے تحت سوشل میڈیا پر کسی کو نقصان پہنچانے کی پوسٹ کرنا جرم ہے اور اس جرم کی سزا میں دو سال تک قید ہو سکتی ہے۔
انسانی حقوق گروپ نے کہا ہے کہ صدر قیس سعید 2021 سے صدر بننے کے بعد لوگوں کی آزادی کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ اب تک درجنوں تنقید کرنے والے شہریوں کو جیل بھیجا جا چکا ہے اور کئی شہریوں پر جعلی خبروں کے مبینہ جرم میں فوجداری قانون کے تحت بھی مقدمات بنائے گئے ہیں۔
8 ماہ کی سزائے قید پانے والے رکن پارلیمان احمد سعیدانی ماضی میں صدر قیس سعید کے حامی رہے ہیں اور ان کے اقتدار میں آنے کی بھی حمایت کر چکے ہیں۔ مگر اب وہ صدر پر تنقید کرنے والوں میں شامل ہو کر جیل چلے گئے ہیں۔
یاد رہے پچھلے مہینے تیونس میں شدید بارشوں کی وجہ سے سیلاب نے کئی علاقوں کو متاثر کیا ہے اور 70 سال کے عرصے میں یہ بدترین سیلاب قرار دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کئی لوگ لاپتہ ہوگئے ہیں جن کا ابھی تک سراغ نہیں لگایا گیا جبکہ کم از کم 5 لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔