سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
شہزادہ خالد نے پاکستانی عہدے دار کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تزویراتی دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب پر ایرانی حملوں اور ان حملوں کو روکنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جو خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے مفاد میں نہیں ہیں۔
سعودی وزیر دفاع نے "ایکس" پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ ایرانی فریق حکمت اور دانش مندی کی آواز کو غالب رکھے گا اور غلط اندازوں سے دور رہے گا"۔
دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تزویراتی دفاعی معاہدہ موجود ہے جس کے مندرجات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سعودی عرب یا پاکستان کے خلاف کوئی بھی بیرونی مسلح حملہ ... دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
مشترکہ تزویراتی دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی انضمام قرار دیا گیا ہے جو مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور دفاعی قوت کو بڑھانے کے عزم کے فریم ورک کے تحت ہے تاکہ ان کی سکیورٹی اور استحکام حاصل ہو سکے۔
-
مشرق وسطی تنازع کے علی الرغم پاکستان کی ایندھن کی ضرورت پوری کریں گے: سعودی عرب
ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کرے گی: ٹرمپ
پاكستان -
پاکستان کو متبادل روٹ سے تیل کی سپلائی، سعودی عرب کی مکمل حمایت
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی سے ملاقات ...
پاكستان -
ایران، امریکہ اسرائیل لڑائی کے تناظر میں پاکستان نے سعودی عرب کو اپنی ریڈ لائن قرار دے دیا
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ...
پاكستان