لبنان کے علاقے بقاع میں واقع قصبے "نبی شیث" میں اسرائیلی زمینی فوج کے اترنے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حزب اللہ ملیشیا کے عناصر کے ساتھ جھڑپیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ یہ بات آج ہفتے کے روز العربیہ کی نامہ نگار نے بتائی۔
لبنان پر گذشتہ پانچ روز سے جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 217 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار لبنانی وزارتِ صحت نے جمعے کو جاری کیے۔ وزارت نے ایک بیان میں بتایا کہ پیر 2 مارچ کی صبح سے جمعہ 6 مارچ کی شام تک اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 217 اور زخمیوں کی 798 ہو گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار کے مطابق، جمعے تک لبنان میں تقریباً ایک لاکھ افراد پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے وسیع علاقوں کو خالی کرنے کی "غیر معمولی" وارننگ کے بعد بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی فوج نے جمعرات کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں اور مشرقی بقاع کے حصوں سے آبادی کو انخلاء کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس سے قبل بدھ کو جنوبی لبنان کے ایک بڑے علاقے کو بھی خالی کرنے کی وارننگ دی گئی تھی۔
لبنان میں اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر عمران ریزا نے کہا ہے کہ "گذشتہ دو دنوں میں ہم نے جو صورتحال دیکھی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی ہے، خواہ وہ انتباہات اور انخلاء کے احکامات کا حجم ہو، یا اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا خوف و ہراس۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت تقریباً 477 پناہ گاہوں میں ایک لاکھ افراد موجود ہیں اور گنجائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ بد حواسی میں ہر طرف بھاگ رہے ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ کہاں جانا ہے، اس لیے پناہ گاہوں میں لوگوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوگا۔
-
لبنان میں جاں بحق افراد کی تعداد 217 ہوگئی، ایک لاکھ افراد پناہ گاہوں میں منتقل
لبنان کے اندر خوف و ہراس کی ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی: یو این عہدے دار
مشرق وسطی -
لبنان میں ضاحیہ اور صیدا پر اسرائیلی بم باری، بقاع کے دیہات خالی کرنے کا حکم
اسرائیلی فوج کے مطابق لبنان میں مہم خطرہ ختم ہونے تک جاری رہے گی
مشرق وسطی -
لبنانی عوام کو نقل مکانی کا جبری حکم دینا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو گا
بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے ...
مشرق وسطی