امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اتوار کو ایران کے خلاف عسکری تصادم میں اضافے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے حملے تہران پر مزید شدید ہوں گے اور ہر چیز منصوبے کے مطابق جاری ہے۔
ہیگسیتھ نے این بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایک وقت آئے گا ،جب ایران کے پاس صرف ہتھیار ڈالنے کا راستہ بچے گا، یعنی جب وہ مزید فوجی لڑائی کرنے کے قابل نہیں رہیں گے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگ ختم کرنے کی شرائط امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طے کریں گے اور ''غیر مشروط ہتھیار ڈالنے'' کے مختلف ممکنہ طریقے ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں ہیگسیتھ نے امکان ظاہر کیا کہ زمینی فورسز بھی ایران بھیجی جا سکتی ہیں اور کہا کہ امریکہ اپنی عسکری کارروائیوں کی حدیں ظاہر نہیں کرے گا،اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا:ہم جنگ میں شرائط طے کرتے ہیں اور ایران کے جوہری عزائم کو ہم مکمل طور پر ختم کریں گے۔
ہیگسیتھ کے مطابق اب تک امریکی فوج نے ایران میں تقریباً 3 ہزار ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وسیع اہداف
ایک اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار نے بتایا کہ امریکی فوج نے ایران میں وسیع پیمانے پر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ان اہداف میں ایرانی پاسداران انقلاب کی تنصیبات، میزائل اور لانچ پلیٹ فارم اور باقی ماندہ دفاعی نظام شامل تھے، جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری سے ایران کے خلاف وسیع عسکری کارروائی شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں کئی اہم ایرانی کمانڈر ہلاک ہوئے، جن میں ایرانی رہنما علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد باکپور اور جنرل اسٹاف کے سربراہ عبدالرحیم موسوی شامل تھے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے وسیع آپریشن کیا، جس میں اسرائیل کے اہداف اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔