چین کا ایران میں سکول حملے کے متاثرہ خاندانوں کو 200,000 ڈالر کا عطیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

چین نے جمعہ کو کہا ہے کہ وہ شرقِ اوسط کی جنگ کے اوائل میں ایران میں بچیوں کے ایک پرائمری سکول پر "اندھا دھند" میزائل حملے میں ہلاک شدہ طالبات کے والدین کو 200,000 ڈالر عطیہ کرے گا۔

تہران نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جنگ کے پہلے دن ایران کے جنوب میں واقع سکول پر مہلک میزائل حملہ کیا تھا۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں ہلاک شدہ بچیوں سمیت کم از کم 165 افراد کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔

تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ حملے کے لیے امریکی فوج کی تحقیقات جاری ہیں۔

بیجنگ کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ چینی ریڈ کراس سوسائٹی ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی کو ہنگامی انسانی امداد کے طور پر خاص طور پر ہلاک شدہ طالبات کے والدین سے تعزیت اور معاوضے کے لیے 200,000 ڈالر عطیہ کرے گی ۔

وزارت کے ترجمان گو جیاکون نے اس مہلک حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی "سخت خلاف ورزی" قرار دیا۔

گو نے ایک باقاعدہ نیوز بریفنگ میں نامہ نگاروں کو بتایا، "سکولوں اور بچوں پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور انسانی ضمیر اور اخلاقیات کی زیریں سطح سے بھی ہیں۔"

انہوں نے کہا، چین اس مشکل وقت میں ایرانی عوام کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کے جذبے سے ایران کو ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

نیویارک ٹائمز نے بدھ کے روز اطلاع دی کہ امریکی فوجی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ امریکی ٹوماہاک میزائل نشانے کی غلطی کے باعث سکول پر گرا تھا۔

اسرائیل نے اس حملے میں ملوث یا اس کا علم ہونے سے انکار کیا ہے۔

اے ایف پی حملے یا ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق کرنے کے لیے مقام تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر رہا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں کہا تھا کہ ایران خود اس کا ذمہ دار ہو سکتا ہے حالانکہ ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل نہیں ہیں۔

انہوں نے بعد میں کہا کہ تحقیقات سے جو کچھ بھی ظاہر ہو گا، وہ "اسے قبول کر سکتے ہیں" لیکن بدھ کو ٹائمز کی رپورٹ کے بارے میں سوال پر انہوں نے صحافیوں سے کہا: "میں اس کے بارے میں نہیں جانتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں