برطانیہ مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جنگ کا حصہ نہیں بنے گا: کیر سٹارمر
جرمنی اور یونان کا آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائیوں میں شمولیت سے انکار
برطانوی وزیراعظم کیر سٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے، تاہم وہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی وسیع تر جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا کوئی بھی منصوبہ نیٹو مشن کے ذریعے مکمل نہیں کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے 7 ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے ان ممالک پر زور دیا کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنا حصہ ڈالیں جسے تہران نے زیادہ تر تیل بردار جہازوں کی نقل و حمل کے لیے بند کر دیا ہے۔
کیر سٹارمر نے واضح کیا کہ ان کا ملک اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ تیار کرنے پر کام کر رہا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے اس حوالے سے بتایا کہ ہم اپنے یورپی شراکت داروں سمیت تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا اجتماعی اور قابل عمل منصوبہ بنا رہے ہیں جس سے خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے اور معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
" مشرق وسطیٰ کی جنگ سے نیٹو کا کوئی تعلق نہیں"
اسی تناظر میں جرمن حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں چھڑنے والی جنگ سے نیٹو کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ چانسلر فریڈرک میرٹز کے ترجمان نے پیر کے روز اعلان کیا کہ جاری تنازع نیٹو کی جنگ نہیں ہے۔
ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران ترجمان سٹیفن کورنیلیس نے بتایا کہ نیٹو علاقائی دفاع کا ایک اتحاد ہے اور موجودہ صورتحال میں نیٹو افواج کی تعیناتی کا کوئی جواز یا اختیار موجود نہیں ہے۔
یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس وارننگ کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر واشنگٹن کے اتحادیوں نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں تعاون نہ کیا تو مستقبل میں اس اتحاد کو انتہائی برے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب یونانی حکومت کے ترجمان پاولوس ماریناکس نے بھی پیر کے روز اس بات پر زور دیا کہ یونان آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں وضاحت کی کہ یونان صرف یورپی یونین کے بحری مشن (اسپائڈز) کا حصہ رہے گا جس کی ذمہ داری بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت کرنا ہے۔
-
ایران کا امریکی اور صہیونی جارحیت کے مقابلے میں حمایت پر پاکستان کا اردو میں اظہار تشکر
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پیر کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا ...
پاكستان -
ایران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں، اسرائیل بھر میں سائرن گونج اٹھے
ایران میں جنگ کے تیسرے ہفتے کے دوران پیر کے روز بھی امریکی اور اسرائیلی حملے جاری ...
مشرق وسطی -
ایران : احتجاجی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر یورپی یوینین کی نئی پابندیاں
یورپی یونین نے پیر کے روز ایران کے خلاف نئی پابدیوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ پابندیاں ...
مشرق وسطی