ایناکونڈا منصوبہ: امریکی خانہ جنگی کے خاتمے کی خاموش حکمتِ عملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ابراہام لنکن کے 1860 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد ریاستہائے متحدہ امریکا ایک بے مثال بحران سے دوچار ہو گیا۔

اس دوران لنکن نے غلامی کے نظام کو جاری رکھنے کی سخت مخالفت کی اور ساتھ ہی اس عمل کو نئی ریاستوں تک پھیلنے سے روکنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

دوسری جانب لنکن کی ان پالیسیوں نے جنوبی ریاستوں میں شدید غصہ پیدا کیا، کیونکہ ان کی معیشت بڑی حد تک غلاموں پر انحصار کرتی تھی، جو کپاس کی کاشت میں کام کرتے تھے اور اس کپاس کو اس وقت یورپ برآمد کیا جاتا تھا۔

اس صورتحال کے پیشِ نظر جنوبی ریاستوں نے اتحاد سے علیحدگی اختیار کرنے کو ترجیح دی اور ''کنفیڈریٹ ریاستوں ''کے نام سے ایک نئی ریاستی تنظیم کے قیام کا اعلان کر دیا۔

دو فریقوں کے درمیان طویل جنگ

جنوبی ریاستوں کی جانب سے 12 اور 13 اپریل 1861 کو فورٹ سمٹر (Fort Sumter) پر گولہ باری کے بعد امریکی خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

اس دوران شمالی ریاستوں (یونین) نے جنوبی ریاستوں کے خلاف بھرپور تیاری اور فوجی mobilization کا سہارا لیا۔

اسی وقت دونوں فریقوں کی فوجی قیادت میں جنگ کے مستقبل کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا تھا۔ جہاں ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ جنگ مختصر ہوگی اور جلد ختم ہو جائے گی، وہیں کچھ اعلیٰ فوجی افسران کا ماننا تھا کہ یہ جنگ کئی سال جاری رہے گی اور اس میں بھاری جانی نقصان ہوگا، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ایک ایسی کشمکش تھی جو برسوں سے ٹلتی آ رہی تھی۔

ادھر شمالی افواج کے کمانڈر جنرل ونفیلڈ اسکاٹ کا یقین تھا کہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستیں بہت وسیع علاقے پر پھیلی ہوئی ہیں، اس لیے ان کے خلاف فوری اور فیصلہ کن فتح حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ایناکونڈا منصوبہ

اس صورتحال کے پیشِ نظر جنرل ونفیلڈ اسکاٹ نے جنوبی ریاستوں کو بتدریج کمزور کرنے اور انہیں شکست سے دوچار کرنے کے لیے ایک حکمتِ عملی تیار کی۔

اسی سوچ کے نتیجے میں ''ایناکونڈا پلان'' سامنے آیا، جسےاسکاٹ کا دیو ہیکل سانپ بھی کہا جاتا ہے۔اس منصوبے کے تحت یونین کی بحریہ کو جنوبی ریاستوں کی بندرگاہوں کا سخت محاصرہ کرنا تھا، جو ہزاروں کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر مشتمل تھیں، تاکہ جنوبی ریاستیں کپاس برآمد نہ کر سکیں اور ان کے بنیادی مالی وسائل ختم ہو جائیں۔

اس کے علاوہ اس ناکہ بندی کا مقصد یہ بھی تھا کہ کنفیڈریسی کو بیرونی ممالک سے اسلحہ اور فوجی مدد نہ مل سکے اور وہ اپنے ذخائرجیسے سامان، اسلحہ اور گولہ بارودسے محروم ہو جائیں۔

دوسری جانب جنرل اسکاٹ نے دریائے مسیسیپی پر کنٹرول حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا، کیونکہ کنفیڈریٹ افواج اسی دریا کو فوجیوں اور سامان کی تیز تر نقل و حمل کے لیے استعمال کرتی تھیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مسیسیپی پر قبضہ جنوبی ریاستوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گا، جس سے مغربی اور جنوبی علاقوں کے درمیان رابطہ ٹوٹ جائے گا۔


ایناکونڈا منصوبے کی کامیابی

اسکاٹ کے منصوبے کو "ایناکونڈا" اس لیے کہا گیا کہ یہ ایک ایسے سانپ کی مانند تھا جو اپنے شکار کو جکڑ کر آہستہ آہستہ اس کا دم گھونٹ دیتا ہے۔

ابتدا میں اس منصوبے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بہت سے شمالی رہنماؤں کا خیال تھا کہ اگر اسے نافذ کیا گیا تو فتح حاصل کرنے میں مہینوں یا حتیٰ کہ برسوں لگ سکتے ہیں۔

تاہم امریکی صدر ابراہام لنکن نے اسکاٹ کی اس حکمتِ عملی کی حمایت کی، جس کا مقصد جنوبی ریاستوں کو معاشی طور پر کمزور کرنا اور ساتھ ہی محاذِ جنگ پر دباؤ برقرار رکھنا تھا۔

اس منصوبے کی بدولت یونین کی فتح کے امکانات مضبوط ہو گئے۔ شمالی افواج نے بڑی تعداد میں بحری جہاز روانہ کر کے جنوبی ریاستوں کی ساحلی پٹی اور بندرگاہوں کا محاصرہ کر لیا، جس کے نتیجے میں جنوبی معیشت تباہی کا شکار ہوئی اور انہیں فوجی سامان کی فراہمی بھی کم ہوتی گئی۔

1863 میں وِکسبرگ (Vicksburg) کی جنگ کے بعد یونین نے دریائے مسیسیپی کے بڑے حصے پر قبضہ حاصل کر لیا، جو ایناکونڈا منصوبے کا ایک اہم مرحلہ تھا اور اس سے جنوبی ریاستوں کو مزید کمزور کیا گیا۔

بالآخر تقریباً چار سال تک جاری رہنے والی خونریز جنگ جس میں چھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے، 9 اپریل 1865 کو اختتام پذیر ہوئی، جب جنوبی افواج کے جنرل رابرٹ ای لی نے شمالی کمانڈر یولیسس ایس گرانٹ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ یوں امریکی خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور یونین کو فتح حاصل ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں