ٹوماہاک میزائلوں کے ذخیرے میں کمی، پینٹاگون کی تشویش میں اضافہ
غیر معمولی استعمال کے باعث امریکی وزارت دفاع میں اسلحہ ختم ہونے سے متعلق خدشات پیدا ہو گئے
ایران میں جاری فوجی آپریشنز کے تسلسل کے ساتھ ہی اسلحہ کے ذخائر کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔
امریکی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے جنگ کے پہلے چار ہفتوں کے دوران ٹوماہاک طرز کے 850 سے زائد کروز میزائل داغے ہیں۔ استعمال کی یہ غیر معمولی رفتار امریکی وزارت دفاع کے اندر ان درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی کے حوالے سے تشویش کا باعث بنی ہے۔
’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس کثرت سے استعمال نے پینٹاگان کو استعمال کی شرح کی نگرانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس دوران یہ انتباہات بھی سامنے آئے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں موجود ذخائر تشویشناک سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ اگر آپریشنز اسی رفتار سے جاری رہے تو گولہ بارود ختم ہونے کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
البنتاغون: الجيش الأميركي أطلق أكثر من 850 صاروخ "توماهوك" خلال شهر من الحرب مع إيران pic.twitter.com/3f7IjIdl4k
— العربية (@AlArabiya) March 27, 2026
حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اصل مسئلہ محدود پیداوار کا ہے کیونکہ سالانہ صرف چند سو میزائل تیار کیے جاتے ہیں جبکہ ایک میزائل کی تیاری میں لگ بھگ دو سال کا وقت لگ سکتا ہے اور اس کی لاگت تقریباً 3.6 ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔
حکام کے تخمینوں کے مطابق امریکہ نے محض ایک ماہ کے دوران ان میزائلوں کے اپنے کل ذخیرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ استعمال کر لیا ہے جس سے دیگر علاقوں بالخصوص بحر ہند اور بحر الکاہل میں کسی بھی ممکنہ تنازع کے لیے اس کی تیاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں چھڑنے والی جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے کے ساتھ اب بھی جاری ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کے واسطے چھ اپریل سنہ 2026ء تک کی مہلت دے رکھی ہے۔
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ آپریشنز جاری رکھنے کے لیے اس کے پاس کافی گولہ بارود موجود ہے تاہم دفاعی کمپنیوں کے ساتھ پیداوار بڑھانے اور مینوفیکچرنگ کی رفتار تیز کرنے کے لیے بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔
ٹوماہاک میزائل جو سنہ 1991ء کی خلیجی جنگ سے جنگی بحری جہازوں اور آبدوزوں سے داغے جا رہے ہیں طویل فاصلے تک مار کرنے والے نمایاں ترین ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایک ہزار میل سے زائد فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور سیٹلائٹ کے ذریعے اپنا راستہ تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ حملوں کے نتائج کے بارے میں براہ راست معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
-
امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار ... 100 ڈالر کے نوٹ پر ٹرمپ کے دستخط
امریکی تاریخ میں ایک منفرد قدم اٹھاتے ہوئے وزارتِ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی ...
بين الاقوامى -
امریکہ نے ایران کے ساتھ تنازع میں خودکار کشتیاں تعینات کر دیں : پینٹاگان
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کو نشانہ بنانے ...
بين الاقوامى -
امریکہ بدترین حالات کے لیے تیار : 10 ہزار امریکی فوجی اور خودکش کشتیاں
امریکی انتظامیہ کے حکام نے ایرانی ایٹمی تنصیبات کے اندر موجود افزودہ یورینیم کو ...
بين الاقوامى