آسٹریا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز سے اب تک اس نے اپنی فضائی حدود سے امریکی فوجی طیاروں کے گزرنے کی تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت پر سختی سے قائم رہے گی۔
آسٹریا کی وزارت دفاع کے ترجمان مائیکل باور نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایسی درخواستیں موصول ہوئی تھیں جنہیں شروع ہی سے مسترد کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی معاملہ کسی ایسی ریاست کا ہو جو حالتِ جنگ میں ہو تو ایسی درخواستوں کو مستردکر دیا جاتا ہے۔
اطالوی وزارت دفاع کے ذرائع اور مقامی میڈیا نے منگل کے روز اطلاع دی تھی کہ اٹلی نے بھی مشرق وسطیٰ میں جنگی مشن پر جانے والے بعض امریکی طیاروں کو صقلیہ کے مشرقی علاقے میں واقع سیگونیلا بیس پر لینڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
امریکہ کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کی شرائط کے تحت امریکی فوجی طیارے بعض اطالوی فوجی اڈوں کو استعمال تو کر سکتے ہیں لیکن ان کا استعمال صرف لاجسٹک مقاصد تک ہی محدود رہ سکتا ہے۔
ان ممالک سے قبل سپین کی حکومت بھی یہ واضح کر چکی ہے کہ اس نے ایران کے خلاف مشن پر مامور امریکی طیاروں کے لیے ملک کی فضائی حدود بند کر دی ہے۔
-
ایران اور امریکہ کے موقف میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مشترکہ نکات موجود ہیں : پاکستان
اسلام آباد نے ان مذاکرات کی سہولت کے لیے چین اور شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کی ...
بين الاقوامى -
ہم اب ایرانی بحریہ یافضائیہ کی کسی قابلِ ذکرسرگرمی کی نگرانی نہیں کررہے ہیں:امریکی سینٹکوم
سینٹکوم کمانڈر بریڈ کوپر کے مطابق آپریشن کے آغاز سے اب تک ایران کے اندر 12300 حملے ...
مشرق وسطی -
ایرانی فوج کے سربراہ کا افواج کو زمینی حملے کے منظرنامے کے لیے تیار رہنے کا حکم
حاتمی نے مخالفین کی نقل و حرکت کی انتہائی درستی اور مکمل احتیاط کے ساتھ نگرانی ...
مشرق وسطی