آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے معاہدے کی خلاف ورزی پر سخت برہمی
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو وارننگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی اجازت دینے کے حوالے سے انتہائی "برا عمل" اور ان کے بقول "شرمناک" رویہ اپنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے "اتفاق رائےکے مطابق نہیں" ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مال بردار جہازوں پر فیس عائد کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ واضح رہے کہ تہران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے حصے کے طور پر اس حیاتیاتی راہداری کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ ایسی رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار بحری جہازوں پر فیس عائد کر رہا ہے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ بہتر ہوگا کہ ایران ایسا نہ کرے اور اگر وہ ایسا کر رہا ہے تو اسے فوری طور پر رک جانا چاہیے۔
چند منٹ بعد اپنی دوسری پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ بہت جلد آپ دیکھیں گے کہ تیل کی روانی شروع ہو جائے گی، چاہے اس میں ایران کی مدد شامل ہو یا نہ ہو۔
ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا
اس کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے حالیہ محاذ آرائی میں حاصل ہونے والے نتائج کو "حقیقی فتح" قرار دیا۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے تہران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیاں یا فیس عائد کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے، کیونکہ جنگ بندی کے باوجود تناؤ برقرار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ "وول سٹریٹ جرنل" نے ان کے بیانات کو ایران میں "قبل از وقت فتح" کا اعلان قرار دے کر غلطی کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ "اصل فتح ہے، قبل از وقت نہیں"۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ میری بہ دولت ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ تیل کی ترسیل جلد ہی بحال ہو جائے گی، چاہے ایران تعاون کرے یا نہ کرے۔
انہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اخبار کو اپنے الفاظ واپس لینے پڑیں گے۔ انہوں نے اخبار پر الزام لگایا کہ وہ تنقید کرنے میں جلدی کرتا ہے لیکن اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتا۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرن گیں اور ایرانی موقف
دوسری جانب ایرانی پاسدار ان انقلاب نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کے معمول کے راستے میں بارودی سرنگیں موجود ہیں۔ انہوں نے ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے جزیرہ لارک کے شمال اور جنوب میں جہازوں کے لیے دو متبادل راستوں کی نشاندہی کی ہے۔
اس کے برعکس امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کی ایرانی ضد دوبارہ جنگ چھڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ "وول سٹریٹ جرنل" کے مطابق حکام نے دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔
تہران نے ثالثوں کو مطلع کیا ہے کہ اس کا ارادہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت کو یومیہ تقریباً 12 جہازوں تک محدود کر دے اور جنگ بندی کے انتظامات کے تحت عبوری فیس عائد کرے، جس کی ہم آہنگی پاسداران انقلاب کے ساتھ کی جائے گی، جسے امریکہ اور یورپی یونین نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔