نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے عندیہ دیا ہے کہ امریکی قیادت میں کام کرنے والے مغربی فوجی اتحاد آبنائے ہرمز کے مشن کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ مارک روٹے نے یہ بات جمعرات کے روز کہی ہے۔
روٹے نے واشنگٹن میں آبنائے ہر مز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر نیٹو اس سلسلے میں کچھ کر سکتا ہے تو ظاہر ہے ایسا نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ بعض اہم دارالحکومت اس مشن کے لیے اگلے چند دنوں میں آبنائے ہرمز کے سلسلے میں امریکہ کی مدد کی ٹھوس کمٹمنٹس کریں۔
نیٹو سربراہ نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک ایسے وقت میں ملاقات کی ہے جب ایک دن پہلے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ایک جنگ بندی معاہدے کے لیے ابتدائی اتفاق کیا ہے۔ مگر اسی روز اس جنگ بندی معاہدے کے لیے ابتدائی اتفاق کے فوری بعد اسرائیل نے اس معاہدے سے انحراف کا آغازکر دیا۔
نیٹو ملکوں سے تعلق رکھنے والے ایک سفارت کار نے اس بارے میں کہا ہم واشنگٹن کی پریشانی کو دیکھ رہے ہیں کہ لیکن امریکہ نے اس سلسلے میں اتحادی ملکوں سے مشاورت تک نہیں کی تھی۔
نیٹو ملکوں کے ایک اہم رکن کے سفارکار نے کہا 'نیٹو ایران کے خلاف جنگ میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اتحادی ہرمز کے دیر پا حل کی خاطر مددگار بننا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر اس سے قبل نہ صرف یہ کہ نیٹو ممالک کو سخت تنقید کر رہے ہیں بلکہ ان کا مضحکہ بھی اڑاتے رہے ہیں اور انہیں کاغذی شیر قرار دیتے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ امریکہ کو اس 32 رکنی نیٹو اتحاد سے نکال لینے کی بھی کئی بار دھمکی دے چکے ہیں۔ کہ وہ یورپی اتحادی جو امریکی سیکیورٹی گارنٹیز کی بنیاد پر اپنی سلامتی یقینی بناتے ہیں ان ملکوں نے ایران کے خلاف امریکی و اسرایلی حملوں میں ساتھ نہیں دیا ہے۔ ٹرمپ نے ابھی منگل ہی کے روز کہا وہ ایران کے خلاف حملوں کو دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی بنیاد پر روک رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے 'ٹروتھ سوشل' پر یہ بھی کہا کہ کہ جب ہمیں 'نیٹو' کی ضرورت تھی تو اس کے لیے 'نیٹو' دستیاب نہیں تھا۔ لگتا ہے ہمیں آنے والے وقتوں میں بھی اس کی ضرورت ہوگی تو یہ ہمارے ساتھ نہیں ہوگا۔
ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے مائیک روٹے کو یورپ میں ٹرمپ کی اکثر ستائش کرنے والے کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ آگے بڑھ کر ٹرمپ کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ سے ایسے وقت میں ملاقات کی جب بظاہر مشرق وسطیٰ میں جنگ رکنے کی شروعات ہوئی ہیں۔ روٹے نے 'سی این این' سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ٹرمپ 'نیٹو' واضح طور پر مایوس ہیں اور میں ان کی مایوسی کو سمجھ سکتا ہوں۔
اب اس تناظر میں تقریبا چالیس ملکوں کے گروپ کے ساتھ برطانیہ نے کوشش شروع کر رکھی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو از سر نو کھولنے کے لیے اپنی فوجی اور سفارتی کوششیں شروع کریں۔
فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل بیرٹ نے بھی جمعرات کے روز کہا ہے کہ آبنائے اس وقت مکمل طورپر کھل نہیں سکے گی جب تک اس کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک پائیدار سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ جبکہ اٹلی اور برطانیہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کی طرف سے آبنائے ہر مز سے گزرنے والے والے جہازوں سے فیس وصولی کا اعلان قابل قبول نہیں ہے۔
ایک یورپی سفارت کار نے اس سلسلے میں کہا ہے 'ہم اس بارے میں درست راستے پر ہیں۔ لیکن اس کا اس معاملے سے تعلق نہیں جو وائٹ ہاؤس میں ہوا ہے۔ جہاں تک روٹے کا تعلق ہے وہ ٹرمپ کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ ان کی مدد و بات چیت کے لیے حاضر ہیں۔ ہم بھی درست شور کر سکتے ہیں اور عملی طور پر بھی جو ضروری ہے کرنے کو تیار ہیں مگر یہ معاملہ امریکہ کو خوش کرنے کا نہیں حالات کی درستی کا ہے۔