امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے انکار پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان میں "ہمت" کی کمی دیکھ کر صدمے اور مایوسی سے دوچار ہوئے ہیں۔
منگل کے روز اطالوی اخبار "کوریری ڈیلا سیرا" کو انٹرویو میں ٹرمپ نے سوال کیا "کیا اطالویوں کو یہ پسند آئے گا کہ ان کی سربراہِ حکومت تیل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کر رہی؟ میں حیران ہوں.. میرا خیال تھا کہ وہ بہادر ہیں، لیکن میں غلط تھا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ میلونی اٹلی کو جنگ میں شامل نہیں کرنا چاہتیں، حالانکہ ان کا ملک اپنی ضرورت کا بڑا حصہ اسی خطے سے درآمد کرتا ہے۔ ٹرمپ نے ان کے موقف کو "ناقابلِ قبول" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔
یہ بیان میلونی کے اس اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خود کار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ویرونا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔
علاوہ ازیں پیر کے روز میلونی نے پوپ فرانسس (لیو چہاردہم) پر ٹرمپ کی تنقید کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ پوپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خلاف بیان دیا تھا، جس پر ٹرمپ کے تبصرے کو میلونی نے "ناقابلِ قبول" قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوپ کا امن کی دعوت دینا اور جنگ کی مذمت کرنا بالکل درست اور فطری ہے۔
اطالوی وزیر اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کم کرنے اور امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ایندھن بلکہ کھاد کی فراہمی کے لیے بھی نا گزیر ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واشنگٹن کو ایک تزویراتی حلیف قرار دیا، تاہم اس بات پر اصرار کیا کہ اتحادیوں کے درمیان اختلافات کا اظہار بھی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر اس سے قبل فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر نیٹو اتحادیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں ان کا بھرپور ساتھ نہیں دے رہے۔ انہوں نے ان یورپی ممالک کو بھی بزدل قرار دیا جنہوں نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے بحری جہاز بھیجنے سے گریز کیا۔ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، جس کے بعد 8 اپریل کو پاکستان کی کوششوں سے دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔
-
ایران میں ہمارا مشن ابھی ختم نہیں ہوا ... موساد کے نئے سربراہ کا اعلان
ایران کے ساتھ جاری جنگ پر اپنے پہلے تبصرے میں اسرائیلی موساد کے نئے سربراہ رومان ...
مشرق وسطی -
ہمارے پاس زمینی متبادل ہیں... ایرانی وزارت داخلہ کا ملکی بندرگاہوں کے محاصرے پر جواب
ایران کی بندرگاہوں کے امریکی بحری محاصرے کے دوسرے روز ایرانی وزارتِ داخلہ نے اس ...
بين الاقوامى -
فرانسیسی صدر میکرون کا امریکہ-ایران جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ
فرانس اور برطانیہ کا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایک دفاعی مشن پر بھی کام جاری
مشرق وسطی