حیرت انگیز واقعات: امریکی خانہ جنگی میں جنوبی ریاستیں محاصرے کی زد میں
تاریخ کے دوران کئی ممالک کو جنگوں کے ادوار میں سخت بحری محاصروں کا سامنا کرنا پڑا، جن کا بنیادی مقصد معیشت کو مفلوج کرنا اور رسد و سامان کی ترسیل کو روکنا تھا۔
محاصرے کا شکار ممالک نے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے مختلف راستے اختیار کیے تاکہ اشیائے ضروریہ اور اسلحہ کی ترسیل جاری رکھی جا سکے۔
کچھ نے بلیک مارکیٹ اور زمینی اسمگلنگ کا سہارا لیا، جبکہ بعض نے بحری راستوں سے محاصرہ توڑنے کی کوشش کی۔
مثال کے طور پر دوسری جنگ عظیم کے آخری دور میں جاپان نے امریکی محاصرے سے بچنے کے لیے آبدوزوں کے استعمال کی کوشش کی۔
اسی طرح تاریخ میں ''بلاکڈ رنرز'' (Blockade Runners) کے نام سے تیز رفتار اور ہلکی تجارتی کشتیاں بھی استعمال کی گئیں، جو دشمن کے بحری محاصرے سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔
قبل از انیسویں صدی
پانچویں صدی قبل مسیح میں پیلوپونیشین جنگ کے دوران ڈیلیئن لیگ (Athens کی قیادت میں) اور پیلوپونیشین اتحاد (اسپارٹا کی قیادت میں) آمنے سامنے تھے۔
اس جنگ میں کئی بحری محاصرے دیکھنے کو ملے اور مختلف مواقع پر محاصرہ توڑنے والے جہاز (Blockade Runners) استعمال کیے گئے۔
ایک اہم مثال لیون آف سالامیس کی ہے، جس نے اپنے محاصرے کے بعد ایتھنز سے مدد حاصل کرنے کے لیے ایسے بحری راستے استعمال کیے۔
پونک جنگوں (Punic Wars) کے دوران جب کارتھیج اور روم ایک دوسرے کے خلاف تھے، کارتھیج نے بھی بحری محاصرے سے بچنے کے لیے تیز رفتار جہاز استعمال کیے تاکہ رومی بحری ناکہ بندی کو توڑا جا سکے۔
ان جہازوں کے ذریعے خاص طور پر خوراک اور ضروری سامان کارتھیج تک پہنچایا جاتا تھا۔یہ طریقہ کار قرونِ وسطیٰ میں بھی جاری رہا، بعد میں امریکی جنگِ آزادی کے دوران بھی استعمال ہوا، جب برطانوی بحریہ نے تیرہ امریکی نوآبادیاتی ریاستوں کے ساحلوں کا محاصرہ کر رکھا تھا۔
امریکی خانہ جنگی
امریکی خانہ جنگی (1861 سے 1865) کے دوران یونین (شمالی ریاستوں) نے ''ایناکونڈا پلان'' کے تحت جنوبی ریاستوں کے مالی وسائل کو ختم کرنے اور انہیں کمزور کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی، تاکہ انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔
اس منصوبے کے حصے کے طور پر جنوبی ساحلوں اور بندرگاہوں پر سخت بحری محاصرہ نافذ کیا گیا۔ تقریباً 500 مختلف سائز کے جہاز استعمال کیے گئے تاکہ جنوبی ریاستوں کے تقریباً 3500 میل طویل ساحلی علاقے کی نگرانی کی جا سکے اور انہیں کپاس یورپ کو برآمد کرنے اور بیرونی امداد یا اسلحہ حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔
اس دوران کئی برطانوی تاجروں نے جنوبی ریاستوں کی مدد کرتے ہوئے محاصرہ توڑنے کی کوشش کی۔ خانہ جنگی سے پہلے جنوبی امریکہ نے بڑی مقدار میں کپاس برطانوی منڈیوں کو فراہم کی تھی، اس لیے جنگ شروع ہونے کے بعد برطانوی تاجروں کو اپنے معاشی نقصان کا خطرہ لاحق ہوا۔
برطانیہ کے پاس برمودا اور بہاماس میں بندرگاہیں موجود تھیں، جہاں سے تیز رفتار اور ہلکے جہاز بنائے گئے ،جنہیں ''بلاکڈ رنرز'' کہا جاتا تھا۔
یہ جہاز محاصرہ توڑ کر جنوبی امریکہ تک پہنچتے اور وہاں اسلحہ اور سامان پہنچاتے، جبکہ واپسی پر عموماً کپاس لے جاتے تھے۔جنوبی ریاستوں نے بھی برطانوی سرمایہ کاروں سے ایسے جہاز خریدے۔
ان میں سب سے مشہور جہاز CSS Advance تھا، جس نے محاصرے کے دوران 20 کامیاب سفر کیے، تاہم آخرکار یونین کے ہاتھوں پکڑا گیا۔
اس جنگ کے دوران یونین نے تقریباً 1100 محاصرہ توڑنے والے جہاز قبضے میں لیے اور 355 کو تباہ کیا۔ ان جہازوں کے ذریعے جنوبی ریاستوں کو کچھ حد تک رسد ملتی رہی، جس سے وہ کئی سال تک مزاحمت جاری رکھ سکیں۔
-
فرانس اور برطانیہ کی آبنائے ہرمز کے لیے ایک "پُر امن" مشن کے حوالے سے مذاکرات کی تیاری
ایک پُر امن نوعیت کے کثیر القومی مشن کا قیام
بين الاقوامى -
برطانیہ : آسمان پر آگ کے ایک بہت بڑے گولے سے لوگوں میں خوف و ہراس
توقعات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ شہابِ ثاقب زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی جل کر راکھ ہو گیا ...
بين الاقوامى -
برطانیہ کی وزیرِ خزانہ ایران جنگ پر امریکی حکمتِ عملی سے 'مایوس اور ناراض': رپورٹ
مرر اخبار کے مطابق برطانوی وزیرِ خزانہ ریچل ریوز نے منگل کو اس بات پر "بہت مایوسی ...
بين الاقوامى