برطانیہ : آسمان پر آگ کے ایک بہت بڑے گولے سے لوگوں میں خوف و ہراس

توقعات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ شہابِ ثاقب زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی جل کر راکھ ہو گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

برطانیہ کے آسمان پر ایک بہت بڑا اور سبز رنگ کا آگ کا گولہ (Fireball) نظر آنے کے بعد خوف و ہراس اور بحث و تکرار کی لہر دوڑ گئی۔ ابتدائی طور پر بہت سے لوگوں نے اسے "آتش بازی" سمجھا، لیکن بعد میں واضح ہوا کہ یہ ایک غیر معمولی فلکیاتی واقعہ تھا، جس نے خلائی مخلوق یا دیگر امکانات سے متعلق بحث کو جنم دیا۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کی رپورٹ کے مطابق، جسے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے بھی دیکھا، یہ سبز رنگ کا آگ کا گولہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات تقریباً 12:30 بجے برطانیہ کے آسمان کو چیرتا ہوا دیکھا گیا۔ انگلینڈ کے کچھ علاقوں میں گھروں کے سکیورٹی کیمروں نے اس کے مناظر محفوظ کر لیے اور برطانوی شہریوں نے سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر شیئر کیں۔

اس حوالے سے لوگوں کے مختلف تبصرے سامنے آئے۔ بعض نے اس کے سبز رنگ کی وجہ سے اسے آتش بازی قرار دیا، تو کسی نے اسے ایک شہابِ ثاقب (Meteor) کہا جو سب کے سامنے پھٹ گیا۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک سوال اٹھا دیا کہ کیا یہ زمین پر خلائی مخلوق کا حملہ ہے؟

"ڈیلی میل" نے اپنی رپورٹ میں ان برطانوی شہریوں سے، جنہوں نے اس منظر کو دیکھا یا فلمایا، اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی تصاویر اور وڈیوز بھیجیں تاکہ مختلف زاویوں سے اس کا تجزیہ کیا جا سکے اور اصل حقیقت سمجھی جا سکے۔

فیس بک پر ایک صارف نے لکھا "میں نے اسے دیکھا، یہ ایک بہت بڑا اور گہرے سبز رنگ کا گولہ تھا، مجھے لگا یہ آتش بازی ہے۔" ڈربی شائر کے ایک شہری نے بتایا "میں گھر واپس آ رہا تھا جب میں نے اسے دیکھا، یہ بالکل آتش بازی کے رنگوں جیسا تھا۔"

اخبار کے مطابق اگرچہ یہ منظر پریشان کن ہو سکتا ہے، لیکن اس کی ایک سادہ سی وضاحت یہ ہے کہ یہ ایک شہابِ ثاقب تھا۔ برطانیہ کے مختلف حصوں سے سامنے آنے والی وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ کا یہ گولہ زمین کی طرف تیزی سے بڑھا اور پھر ایک چمک دار سبز روشنی کے ساتھ پھٹا اور غائب ہو گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گیا تھا۔

ایک عینی شاہد نے لکھا "میں ایم 62 (M62) موٹر وے پر جا رہا تھا جب میں نے اسے دیکھا، میں اب تک حیرت زدہ ہوں کہ اس کی روشنی کتنی تیز تھی!" ایک اور صارف نے ناسا کے "آرٹیمس 2" مشن کا حوالہ دیتے ہوئے مزاحاً کہا "دیکھو، ہم چاند کے گرد چکر لگا رہے ہیں اور اب ہم پر خلائی چٹانیں پھینکی جا رہی ہیں۔"

سائنسی طور پر فضا میں پھٹنے والے آگ کے ان گولوں کو شہابِ ثاقب کہا جاتا ہے۔ ناسا کی وضاحت کے مطابق جب کوئی خلائی جسم زمین کی فضا میں داخل ہوتا ہے تو رگڑ کی وجہ سے اس کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور وہ گرم ہو جاتا ہے۔ اس کے سامنے ایک Bow shock لہر بنتی ہے جہاں فضائی گیسیں دب جاتی ہیں اور گرم ہو جاتی ہیں۔ اس توانائی کا کچھ حصہ اس جسم تک پہنچتا ہے جس سے وہ ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے اور جب اس کے اگلے اور پچھلے حصے پر دباؤ اس کی برداشت سے باہر ہو جاتا ہے تو وہ دھماکے سے پھٹ جاتا ہے۔

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ دنیا میں روزانہ ایسے ہزاروں واقعات ہوتے ہیں، لیکن وہ سمندروں، غیر آباد علاقوں یا دن کی روشنی میں ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں