امریکہ میں متعین اسرائیلی سفیر يحيئيل ليٹر اور واشنگٹن میں لبنانی سفیرہ ندی حمادہ معوض کے درمیان امریکی وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی براہ راست بات چیت کے بعد اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جاری مذاکرات کے تناظر میں لبنانی حکومت کی جانب خیر سگالی کے طور پر لبنان میں عارضی وقفہ یا جنگ بندی پر غور کرے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق توقع ہے کہ اسرائیلی کابینہ آج شام ان تجاویز پر بحث کرے گی۔
دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے چینل 12 کو بتایا کہ لبنان میں جنگ بندی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور اس حوالے سے فیصلہ آج رات کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
لبنان کی جنگ بندی سے متعلق تجاویز کی ترید
باخبر سفارتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لبنان نے واشنگٹن میں گذشتہ روز یعنی 14 اپریل سنہ 2026ء کو ہونے والے مذاکرات کے دوران جنگ بندی کے حوالے سے جو مطالبات کیے تھے وہ تاحال پورے نہیں ہو سکے۔
تاہم ان ذرائع نے العربیہ کو واضح کیا کہ لبنانی دارالحکومت بیروت اور اس کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو اسرائیلی فضائی حملوں سے دور رکھنے کا معاہدہ اب بھی برقرار ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ لبنان کو امریکی کردار پر بھروسہ ہے کہ وہ اسرائیل کو مذاکرات کی اگلی تاریخ طے ہونے سے قبل جنگ بندی پر آمادہ کرے گا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مذاکرات کے نئے دور کے لیے تاحال کسی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ اس وقت تمام تر نظریں اندرونی رابطوں اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے اس کردار پر مرکوز ہیں جو وہ ملک کو داخلی خلفشار سے بچانے کے لیے ادا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر حزب اللہ کے عہدیداروں کی ان دھمکیوں کے بعد جن میں کہا گیا تھا کہ تنظیم ان مذاکرات کے کسی بھی فیصلے کی پابند نہیں ہوگی کیونکہ ان کے خیال میں ان مذاکرات کو عوامی اور سیاسی حمایت حاصل نہیں ہے۔
کامیاب مذاکرات
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گذشتہ روز لبنان اور اسرائیل نے براہ راست مذاکرات کے ذریعے مستقل امن کی جانب بڑھنے پر اتفاق کیا تھا۔ واشنگٹن میں ہونے والے ان ابتدائی مذاکرات کو فریقین کے نمائندوں کے درمیان انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا گیا ہے اور یہ سنہ 1993ء کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی۔ امریکہ میں لبنانی سفیرہ نے اس ابتدائی اجلاس کے دوران جنگ بندی کا مطالبہ کیا جسے مجموعی طور پر مثبت قرار دیا گیا۔
اسی دوران اسرائیلی سفیر نے بھی لبنانی وفد کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور لبنان اب ایک ہی صف میں آ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 2 مارچ سنہ 2026ء کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے انتقام میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ باری کے بعد لبنان میں جنگ چھڑ گئی تھی۔ اس کے جواب میں اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان اور بیروت پر شدید فضائی حملے کیے جس کے بعد سے ملک شدید تقسیم کا شکار ہے۔
لبنانیوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ حزب اللہ نے ایران کی خاطر ملک کو اس خونی جنگ میں دھکیلا ہے جبکہ حزب اللہ کے حامی ان فیصلوں کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نومبر سنہ 2024ء میں دشمنی کے خاتمے کے معاہدے کے بعد سے اسرائیل کی جارحیت نہیں رکی تھی۔
-
اسرائیل نے لبنانی مذاکرات میں فرانس کی شرکت مسترد کر دی
اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی حملے لبنان میں جاری، جنوبی علاقوں میں گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا
واشنگٹن میں ابتدائی مذاکرات کے باوجود اسرائیلی حملے لبنان میں جاری ...
مشرق وسطی -
چوبیس گھنٹوں کے دوران حزب اللہ کے 200 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان میں ...
مشرق وسطی