بحری ناکہ بندی کی وجہ سے روس کوکریمیا میں نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں روسی سلطنت نے عثمانی سلطنت کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے علاقوں میں توسیع کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں 1853 میں روس نے عثمانیوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔

اس جنگ میں روسی پیش قدمی کے جواب میں فرانس اور برطانیہ نے بعد میں سلطنت سردینیا کے ساتھ مل کر عثمانی سلطنت کے حق میں مداخلت کی تاکہ مشرق میں روسی توسیع کو روکا جا سکے۔

یہ تنازع جسے کریمیا کی جنگ کے نام سے جانا جاتا ہے، میں برطانیہ اور فرانس نے اپنی افواج کریمیا بھیجیں، خاص طور پر سیواستوپول کی طرف جو روس کے لیے ایک اہم بحری اور عسکری اڈہ تھا۔ اس اقدام کا مقصد بحیرۂ اسود میں روسی اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھا۔

کریمیا میں برطانوی اور روسیوں کے درمیان لڑائیوں کی تصویر کشی کرنے والی پینٹنگ
کریمیا میں برطانوی اور روسیوں کے درمیان لڑائیوں کی تصویر کشی کرنے والی پینٹنگ



سیواستوپول کا زمینی محاصر ہ

ستمبر 1854 میں برطانوی اور فرانسیسی افواج کریمیا پہنچیں۔ کامیاب لینڈنگ کے بعد 20 ستمبر 1854 کو انہوں نے دریائے الما (Alma) کے مقام پر روسی افواج کے خلاف جنگ لڑی، جس میں روسیوں کو شدید شکست ہوئی اور انہیں پیچھے ہٹ کر سیواستوپول میں اپنی مضبوط فصیلوں کے پیچھے پناہ لینا پڑی۔

اس کے بعد اتحادی افواج نے سیواستوپول کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اس کا محاصرہ شروع کر دیا۔

اس محاصرے کے دوران انہوں نے خندقیں کھودیں اور شہر کے اطراف دفاعی مورچے قائم کیے۔

اس دوران دونوں جانب سے شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا اور مختلف مواقع پر جھڑپیں بھی ہوئیں، خصوصاً 25 اکتوبر 1854 کو بالاکلاوا (Balaklava) کی لڑائی میں۔

روسیوں اور برطانویوں کے درمیان بالاکلوا کی جنگ کی ایک پینٹنگ
روسیوں اور برطانویوں کے درمیان بالاکلوا کی جنگ کی ایک پینٹنگ



سیواستوپول کا یہ محاصرہ تقریباً 11 ماہ تک جاری رہا۔ 1854 اور 1855 کا موسمِ سرما اس محاصرے کا سب سے سخت مرحلہ ثابت ہوا، جس دوران دونوں جانب کے تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار فوجی بیماریوں کے باعث ہلاک ہو گئے۔

بحری ناکہ بندی

سیواستوپول کے زمینی محاصرے کے ساتھ ساتھ اتحادی افواج نے روسی سلطنت پر بحری ناکہ بندی بھی عائد کر دی۔

برطانوی اور فرانسیسی بحری جہازوں نے بحیرۂ اسود میں مکمل برتری حاصل کر لی اور سیواستوپول کا محاصرہ سخت کر دیا، جس سے شہر تک سمندری راستے سے کسی بھی قسم کی رسد کی ترسیل مکمل طور پر روک دی گئی۔

ایک پینٹنگ جس میں بحیرہ اسود پر روسی بندرگاہ پر بمباری کی تصویر کشی کی گئی ہے۔
ایک پینٹنگ جس میں بحیرہ اسود پر روسی بندرگاہ پر بمباری کی تصویر کشی کی گئی ہے۔



اس صورتحال میں روسی افواج نے محسوس کیا کہ وہ برطانوی اور فرانسیسی بحری بیڑے کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، جس کے باعث انہوں نے اپنے جہاز سیواستوپول کی بندرگاہ کے دہانے پر خود ہی غرق کر دیے تاکہ دشمن کے جنگی جہاز شہر میں داخل نہ ہو سکیں۔

یہ بحری ناکہ بندی زمینی محاصرے کے ساتھ مل کر سیواستوپول کو مکمل طور پر گھیرنے اور اس کی سپلائی لائنز منقطع کرنے کا سبب بنی، جس سے شہر بتدریج خوراک اور گولہ بارود کی شدید قلت کا شکار ہو گیا۔

بعد ازاں ملاکوف (Malakoff) کے اہم دفاعی قلعے کے سقوط کے بعد روسی افواج نے محسوس کیا کہ وہ سیواستوپول کو مزید برقرار نہیں رکھ سکتیں اور انہیں شہر سے انخلا کرنا پڑا۔

ایک پینٹنگ جس میں کریمیا میں فرانسیسی لینڈنگ کو دکھایا گیا ہے۔
ایک پینٹنگ جس میں کریمیا میں فرانسیسی لینڈنگ کو دکھایا گیا ہے۔



بحیرۂ اسود میں برتری قائم رکھنے کے لیے برطانوی اور فرانسیسی افواج نے بالٹک سمندر میں بھی روسی بندرگاہوں کا محاصرہ کیا، جہاں انہوں نے روسی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تاکہ انہیں سمندر میں نکل کر سیواستوپول کی مدد کرنے سے روکا جا سکے۔

یہ بحری محاصرہ آنے والے مہینوں میں روسی سلطنت کو کمزور کرنے میں اہم ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں بالآخر روس نے جنگ ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور 30 مارچ 1856 کو اتحادی شرائط قبول کر لیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں