آبنائے ہرمز میں جاری تناؤ اور اس کے باعث عالمی تجارتی نقل و حرکت پر دباؤ کے اس نازک مرحلے میں سعودی عرب نے لاجسٹک چیلنجز سے نمٹنے میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔
مملکت سعودی عرب نے سپلائی کی روانی کو یقینی بنانے اور جہاز رانی، بالخصوص تیل و گیس کے ٹینکرز کی نقل و حرکت میں کسی بھی تعطل سے بچنے کے لیے متوازی طور پر آپریشنل اور سٹریٹجک اقدامات کیے ہیں۔ یہ اقدام بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مملکت کی دوطرفہ بصیرت کی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک تو فوری ردعمل ظاہر کیا گیا جس نے تجارتی بہاؤ کو محفوظ رکھا اور دوسرا ایک ایسے وسیع تر سٹریٹجک راستے کی رفتار میں تیزی لائی گئی جس کا مقصد ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑنے والے ایک عالمی لاجسٹک پلیٹ فارم کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ یہ سٹریٹجک راستہ وہی ہے جو سعودی ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
موفدة العربية: الشركة القطرية للصناعات التحويلية بدأت تصدير الألومنيوم إلى أفريقيا وأوروبا عبر ميناء جدة بعد الحصول على تسهيلات سعودية pic.twitter.com/PBKQP4LG0p
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) April 2, 2026
استحکام کو فروغ دینے والا توانائی کا ڈھانچہ
یہاں لاجسٹک ردعمل کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے کے سٹریٹجک ڈھانچے کی اہمیت ابھر کر سامنے آتی ہے، جس میں سرفہرست "ایسٹ ویسٹ" پائپ لائن (پیٹرولائن) ہے جو مشرقی صوبے کے تیل کے کنوؤں کو بحیرہ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ سے جوڑ رہی ہے۔ یہ پائپ لائن خلیج عرب میں جیو پولیٹیکل رکاوٹوں سے بچنے کے لیے اہم ترین عالمی متبادلات میں سے ایک شمار کی جاتی ہے کیونکہ اس کی گنجائش یومیہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تک پہنچ رہی ہے۔ یہ پائپ لائن مملکت کو آبنائے ہرمز سے دور اپنی تیل کی برآمدات کا رخ موڑنے کی بڑی صلاحیت فراہم کر رہی ہے۔
یاد رہے ’’ پیٹرولائن ‘‘ کا کردار محض ایک متبادل آپریشنل آپشن تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایک سٹریٹجک ٹول کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے تنگ سمندری راستوں میں سپلائی کے ارتکاز سے وابستہ خطرات کو کم کیا جاتا ہے اور بحیرہ احمر کے ذریعے یورپی، افریقی اور امریکی منڈیوں تک تیل کے بہاؤ کی معتبریت کو سپورٹ کیا جاتا ہے۔ اس سٹریٹجک ٹول کا اثر قیمتوں کے استحکام اور سپلائی چین کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔
مسار الإمدادات اللوجستية من ميناء الملك عبد العزيز بالدمام إلى غرب السعودية.. صور خاصة للعربية pic.twitter.com/A4oUCBzoz0
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) April 1, 2026
لاجسٹک نظام کی ترقی تیز کرنے کا موقع
جدہ چیمبر میں لاجسٹک کونسل کے چیئرمین ریان قطب اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت سپلائی چین کے تسلسل کی صلاحیت کو ترقی دینے کا ایک موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت اس مرحلے سے ایک ایسے متوازن نقطہ نظر کے ذریعے نمٹ رہی ہے جو فوری آپریشنل ردعمل اور طویل مدتی سٹریٹجک پہلو کو یکجا کرتا ہے۔
ریان قطب نے مزید کہا کہ موجودہ کوششیں محض اشیا کے بہاؤ کو یقینی بنانے اور مقامی و خلیجی منڈیوں کی خدمت تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ لاجسٹک نظام کی ترقی کو تیز کرنے اور چیلنجز کو کارکردگی اور انضمام کو بڑھانے کے موقع میں بدلنے تک پھیلی ہوئی ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیت ایک کثیر جہتی نظام کی تعمیر میں تیزی ہے جو سمندری، زمینی، فضائی اور ریل کی نقل و حمل کو جوڑتا ہے ۔ اس انضمام کو آٹومیشن اور طریقہ کار کے ملاپ کے ذریعے سپورٹ کیا جاتا ہے اور یہ انضمام سپلائی چین کی لچک اور تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
بحران کے جواب کے ساتھ راہ عمل کی تیزی
ریان قطب کا خیال ہے کہ سعودی اقدام کو محض چیلنجز کے جواب کے زاویے سے نہیں، بلکہ ترقی کی رفتار بڑھانے کے زاویے سے بھی دیکھا جانا چاہیے۔ مملکت ایک طرف سعودی اور خلیجی منڈی کی خدمت اور بہاؤ کے تعطل کو روکنے پر کام کر رہی ہے تو دوسری طرف ان لاجسٹک نظام کے عناصر کی تکمیل کو تیز کر رہی ہے جو گزشتہ سالوں کے دوران ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے تحت تعمیر کیے گئے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، سڑکوں، ریلوے اور آپریشنل و کسٹم سسٹمز کی تیاری کو مضبوط بناتا ہے۔ ان کے درمیان انضمام کی رفتار کو بھی بڑھاتا ہے۔ وہ اس کا موازنہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران پیش آنے والے حالات سے کرتے ہیں جب عملی دباؤ نے ’’ لاسٹ مائل سروسز ‘‘ جیسی بعض تبدیلیوں کو تیز کرنے میں مدد دی تھی۔ موجودہ چیلنجز کثیر جہتی نقل و حمل کو تیز کرنے، سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان انضمام کو بڑھانے اور آٹومیشن کی سطح بلند کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
راستوں کے تنوع سے زیادہ لچک کی فراہمی
جدہ چیمبر میں لاجسٹک کونسل کے چیئرمین کے مطابق سعودی لاجسٹک نظام کی سب سے نمایاں طاقت خلیج عرب اور بحیرہ احمر کے درمیان سمندری راستوں کا تنوع ہے۔ یہ تنوع تجارتی بہاؤ کو تقسیم کرنے اور کسی ایک راستے پر انحصار نہ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ مملکت کسی ایک بندرگاہ یا ایک ہی سمندری محاذ پر تکیہ نہیں کرتی بلکہ اعلیٰ گنجائش والی بندرگاہوں کے ایک مجموعے پر انحصار کرتی ہے۔ یہ وہ بندرگاہیں ہیں جو خلیج اور بحیرہ احمر پر شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس نے حالات کے مطابق نقل و حرکت کا رخ موڑنے میں واضح لچک فراہم کی ہے۔ اس تنوع کو سڑکوں کا جدید نیٹ ورک، ریل کے رابطے اور شہروں کے اندر لاجسٹک مراکز مزید تقویت دیتے ہیں جس سے اشیاء کی منتقلی اور انہیں مملکت کے اندر اور پڑوسی ملکوں میں تیزی اور کارکردگی کے ساتھ دوبارہ تقسیم کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ یہ تنوع نظام کو صدمات برداشت کرنے کے لیے زیادہ قابل بنا دیتا ہے۔
جہاز رانی کے رابطوں کی توسیع
بندرگاہوں کی سطح پر ریان قطب بتاتے ہیں کہ پورٹس اتھارٹی نے MSC، CMA CGM، Maersk اور Hapag-Lloyd جیسی بڑی عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت میں پانچ نئی شپنگ سروسز شامل کرکے سمندری رابطوں کو مضبوط بنایا ہے۔ ان سروسز کی کل گنجائش 63,594 معیاری کنٹینرز سے تجاوز کر گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قدم محض علامتی نہیں تھا بلکہ شپنگ کے اختیارات کو وسیع کرنے، راستوں کو متنوع بنانے اور علاقائی و بین الاقوامی منڈیوں سے روابط بڑھانے کے حوالے سے عملی تھا۔ مزید برآں بعد میں مرسک کمپنی کی 3 نئی شپنگ سروسز جدہ اسلامک پورٹ اور کنگ عبداللہ پورٹ میں شامل کی گئیں جن کی مجموعی گنجائش 14,400 معیاری کنٹینرز تک پہنچتی ہے جس نے ایک حساس وقت میں سعودی بندرگاہوں کی مسابقتی برتری کو مزید بہتر کردیا۔
آپریشنل اور تجارتی مراعات
ریان قطب نے یہ بھی کہا کہ کوششیں محض شپنگ لائنز کو راغب کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان میں براہ راست آپریشنل اور تجارتی اقدامات بھی شامل تھے جنہوں نے سعودی بندرگاہوں کی مسابقت کو بڑھایا۔ کنگ عبدالعزیز بندرگاہ دمام اور جبیل کمرشل پورٹ میں آنے والے خالی کنٹینرز کے لیے چھوٹ کی مدت میں توسیع کا اقدام کیا گیا۔ اسی طرح ینبع میں کنگ فہد انڈسٹریل پورٹ میں بھرے ہوئے برآمدی کنٹینرز اور خالی درآمدی کنٹینرز کے لیے چھوٹ کی مدت کو 20 دن تک بڑھانے کا اقدام کیا گیا۔
جازان پورٹ فار پرائمری اینڈ ڈاؤن سٹریم انڈسٹریز میں ایک نیا ترغیبی پروگرام شروع کیا گیا جس میں تجارتی اور صنعتی سرمایہ کاروں کی مدد، تجارت اور لاجسٹک خدمات کی ترقی کی حوصلہ افزائی اور نئی شپنگ لائنز کو راغب کرنے کے لیے 50 فیصد تک مسابقتی فوائد دیے گئے۔ اسی طرح بندرگاہوں کے اندر آپریشنل پہلو کو مضبوط کیا گیا جس میں جدہ اسلامک پورٹ میں ٹرک گیٹس کی گنجائش 10 سے بڑھا کر 18 لائنیں کرنا بھی شامل ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کا براہ راست اثر ٹرکوں کے داخلے اور خروج کی رفتار، بھیڑ کے وقت میں کمی اور نقل و حرکت کی روانی پر پڑ رہا ہے۔
ادارتی انضمام اور فیصلے میں تیزی
ریان قطب نے زور دیا کہ اس مرحلے میں برتری کا ایک اہم ترین عنصر سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان انضمام کی سطح ہے جو روایتی ہم آہنگی اور دورانیہ اجلاسوں سے آگے بڑھ کر براہ راست رابطے، آپریشنل چیلنجز کے روزانہ حل اور فوری فیصلے کرنے تک پہنچ چکا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ انضمام ایک سے زیادہ ذرائع سے ہوتا ہے جن میں وزارت نقل و حمل اور لاجسٹک سروسز کے ساتھ لاجسٹک پارٹنرشپ کونسل شامل ہے۔ اس کے علاوہ بندرگاہوں کے نظام اور مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطہ ہے جس میں آپریشن، کسٹم، ٹرانسپورٹ، پورٹس اور معاون خدمات سے متعلق 20 سے زیادہ متعلقہ ادارے شریک ہیں۔
ریان قطب نے مزید کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر ہم آہنگی کی اس سطح نے ٹرانزٹ، ہینڈلنگ، ٹرکوں کی نقل و حرکت، تیزی سے کلیئرنس اور کرداروں کی تقسیم کے چیلنجز کو خط و کتابت کے طویل چکروں کا انتظار کیے بغیر حل کرنا ممکن بنا دیا۔ اس کا عملی اثر بلند آپریشنل حجم کو سنبھالنے میں نظر آیا جہاں بندرگاہوں نے مختصر مدت میں پڑوسی ملکوں کی طرف جانے والے تقریباً ایک لاکھ 66 ہزار مال بردار ٹرکوں کے گزرنے کا ریکارڈ قائم کردیا۔ صرف یکم سے 25 مارچ تک زمینی راستوں سے 88,109 ٹرکوں کا اندراج کیا گیا۔
معاون کسٹم لچک
اس تناظر میں زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹم اتھارٹی نے موجودہ مرحلے کے دوران بینک گارنٹی کی شرط کے بغیر ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ کی سرگرمی کی اجازت دے کر نظام کی لچک بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کا براہ راست اثر آپریشنز کو آسان بنانے اور مالی و طریقہ کار کی پیچیدگیوں کو کم کرنے پر پڑتا ہے۔ اتھارٹی نے ہوائی اور سمندری بندرگاہوں کے درمیان ٹرانزٹ نمبر پلیٹس جاری کرنے کی شرط کے بغیر اندرونی ٹرانزٹ سسٹم کی بھی اجازت دے دی۔ اس نے آپریشن کی رفتار کو سپورٹ کیا اور نظام کے مختلف عناصر کے درمیان رابطے کی کارکردگی کو بڑھا دیا۔ ریان زور دیتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف رفتار فراہم کرتے ہیں بلکہ وضاحت اور لچک بھی لاتے ہیں جو کسی بھی ایسے لاجسٹک نظام کے لیے بنیادی عناصر ہیں جو بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہو۔
سعودی عرب کے لاجسٹک کردار میں تبدیلی
ریان قطب نے بتایا کہ مملکت سعودی عرب کے لاجسٹک کردار میں ایک واضح تبدیلی سامنے آئی ہے۔ تاریخی طور پر مقامی منڈی سے وابستہ برآمدات اور درآمدات کا ایک اہم گیٹ وے ہونے کے بعد آج مملکت تیزی سے ایک علاقائی پلیٹ فارم میں تبدیل ہو رہی ہے جو خلیج اور خطے کی سطح پر برآمد، درآمد اور ٹرانزٹ کی خدمت کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تبدیلی کا مطلب صرف حجم میں اضافہ نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب خود فنکشن میں تبدیلی ہے جس کے تحت مملکت خلیجی منڈیوں کی طرف جانے والے سامان کو وصول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ساتھ ہی سعودی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں میں خلیجی برآمدات کے بہاؤ کو بھی سپورٹ کرتی ہے۔ یہ تبدیلی ایک بڑی سٹریٹجک پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے کیونکہ یہ مملکت کو دونوں سمتوں میں بہاؤ کے انتظام کے مقام پر رکھتی ہے نہ کہ صرف مقامی منڈی کے لیے آنے والے سامان کی وصولی تک۔
شپنگ لاگت میں کمی
ریان قطب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مملکت کے ذریعے مقامی اور خلیجی برآمدات کی حمایت نہ صرف کاروبار کے تسلسل میں حصہ ڈالتی ہے بلکہ شپنگ کی لاگت پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ درآمدات اور برآمدات کی نقل و حرکت کے درمیان جتنا بہتر توازن حاصل ہوگا شپنگ لائنز کے آپریشن کی کارکردگی اتنی ہی بہتر ہوگی اور مجموعی لاگت اتنی ہی کم ہوگی۔
اس نقطہ نظر سے نجی شعبے اور خلیجی چیمبرز آف کامرس کے ساتھ برآمدات کو راغب کرنے کے لیے کام کیا گیا جو زیادہ متوازن نقل و حرکت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے اور آپریشنل ماحول کو شپنگ لائنز کے لیے زیادہ پرکشش بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نکتہ بنیادی ہے کیونکہ یہ نہ صرف متبادل راستے فراہم کرتا ہے بلکہ لاجسٹک سروس کو معاشی افادیت سے جوڑ دیتا ہے اور خطے میں کمپنیوں اور شراکت داروں کو حقیقی قدر فراہم کرنے کی مملکت کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
علاقائی گہرائی والے لاجسٹک کوریڈورز
لاجسٹک کوریڈورز کے حوالے سے ریان قطب نے بتایا کہ جو کچھ تیار کیا گیا ہے وہ محض ایک راستے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کوریڈورز کا ایک باہم مربوط نظام ہے جو بندرگاہوں کو ڈرائی پورٹس اور ریاض و دمام جیسے شہروں کے اندر لاجسٹک مراکز سے جوڑتا ہےاور خلیجی اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ رابطے کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ راہداری نہ صرف بندرگاہوں اور اندرونی منڈیوں کے درمیان نقل و حرکت کی خدمت کرتی ہے بلکہ علاقائی رابطے کے دائرہ کار کو بھی وسعت دیتی ہے۔ یہ راہداری اردن اور شام کے ساتھ زمینی اور ریل رابطے کے ذریعے بحیرہ روم کی بندرگاہوں تک رسائی کا امکان کو کھول دیتی ہے۔ یہ ایک سٹریٹجک پہلو ہے جو سعودی نظام کو مقامی اور براہ راست خلیجی فریم ورک سے باہر ایک اضافی جغرافیائی گہرائی فراہم کرتا ہے۔
ریان نے یہ بھی بتایا کہ یہ نظام خلیجی منڈیوں سے وابستہ 40 سے 50 لاکھ اضافی کنٹینرز کی مانگ کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو دستیاب طلب کے حجم اور اس سے نمٹنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔
ریلوے اور ہوائی اڈے نظام کے اندر
ر
انہوں نے کہا کہ ریلوے بندرگاہوں، سڑکوں اور ہوائی اڈوں کے مقابلے میں پہلا محور نہ بھی ہو تو یہ نقل و حمل کے ذرائع کے انضمام میں ایک اہم عنصر ہے۔ "سار" نے ایک لاجسٹک کوریڈور شروع کیا ہے جو مشرقی صوبے کی بندرگاہوں کو الحدیثہ بارڈر سے جوڑتا ہے اور یہ کوریڈور 1700 کلومیٹر سے زیادہ پر محیط ہے جس نے روایتی زمینی نقل و حمل کے مقابلے میں سفر کے وقت کو تقریباً آدھا کر دیا ہے ۔ ایک ٹرین کی گنجائش 400 سے زیادہ معیاری کنٹینرز ہے۔
اس کے علاوہ 5 نئے لاجسٹک راستوں کا اعلان کیا گیا ہے جو بندرگاہوں اور اقتصادی مراکز کے درمیان رابطے کو مضبوط بناتے ہیں جس سے کثیر جہتی نظام کو مدد ملتی ہے اور اس کی کارکردگی بڑھتی ہے۔ خاص طور پر جب اسے سڑکوں، بندرگاہوں اور اندرونی مراکز کے نیٹ ورک کے ساتھ ضم کیا جائے تو کارکردگی میں زیادہ بتہری آجاتی ہے۔
اسی دوران ایئرپورٹس نے سپلائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں واضح کردار ادا کیا جہاں مملکت نے اپنے مختلف ہوائی اڈوں کے ذریعے خلیجی ملکوں سے آنے والی پروازیں وصول کیں جس نے حساس اور فوری ترسیل کے بہاؤ کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔ ریان قطب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ فضائی پہلو لچک کی ایک اضافی تہہ شامل کرتا ہے اور اعلیٰ ترجیح والے سامان سے نمٹنے اور اسے لاجسٹک نیٹ ورک کے باقی عناصر سے جوڑنے کی مملکت کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔
سمندری خدمات اور آٹومیشن
سمندری خدمات کی سطح پر بات کرتے ہوئے ریان قطب نے کہا کہ حقیقی اثر آپریشنل تیاری کو بڑھانے میں ظاہر ہوا جہاں وزارت توانائی اور بندرگاہوں کے نظام کے درمیان بحری جہازوں کے لیے ایندھن کے کوٹے میں اضافے کے لیے ہم آہنگی کو مضبوط کیا گیا۔ اسی طرح مختلف سمندری خدمات کی تیاری کو بڑھایا گیا۔ خلیج عرب میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو مدد فراہم کی گئی اور آپریشنل کارکردگی بڑھانے کے لیے ضرورت کے مطابق بندرگاہوں کے درمیان انسانی وسائل کو دوبارہ تقسیم کیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اقدام میں سپلائی، معاون خدمات اور مختلف سمندری خدمات کی تیاری کو بڑھانا شامل تھا جس سے آپریشنل ماحول زیادہ ہموار اور بحری جہازوں و شپنگ لائنز کے لیے زیادہ پرکشش بن گیا۔
اس کے متوازی طور پر چاہے لاجسٹک پلیٹ فارمز کے ذریعے ہو یا اداروں کے درمیان طریقہ کار کے انضمام کے ذریعے آٹومیشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نظام کی کارکردگی بڑھانے کا ایک بنیادی حصہ بن گئے ہیں۔ ریان قطب بتاتے ہیں کہ طریقہ کار کو تیز کرنے اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال حل کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ یہ وقت کو کم کرتا ہے، طریقہ کار کی رکاوٹیں کم کرتا ہے اور سامان کے آپریشنل راستے کی وضاحت میں مدد دیتا ہے۔ ریان نے مزید کہا موجودہ مرحلہ اس راستے کو زیادہ تیزی سے آگے بڑھائے گا کیونکہ عملی دباؤ ہمیشہ زیادہ موثر حل اپنانے کی رفتار کو بڑھا دیتا ہے۔
مستحکم ہوتی ہوئی سٹریٹجک برتری
ریان قطب نے مزید کہا کہ موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک نقل و حمل کے ذرائع کے انضمام میں تیزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی لاجسٹک مقابلہ مستقبل میں ہر ذریعہ نقل و حمل کی انفرادی کارکردگی پر نہیں ہوگا بلکہ سمندری، زمینی، فضائی اور ریل کی نقل و حمل کے درمیان انضمام کی نظام کی صلاحیت پر ہوگا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مملکت اس راستے پر واضح رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور جو کچھ طویل عرصے میں تیار ہو رہا تھا، وہ آج عملی ضرورت اور ادارتی تیاری کی بدولت تیز ہو رہا ہے۔
ریان قطب نے زور دیا کہ موجودہ مرحلہ لاجسٹک سیکٹر کی ترقی کو تیز کرنے اور اس کے انضمام کو مضبوط بنانے کا ایک عملی موقع ہے۔ مملکت صرف چیلنجز سے نمٹنے پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ انہیں اپنے ویژن کے اہداف کے حصول کو تیز کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مجموعی طور پر آج یہ نظام جو کچھ دیکھ رہا ہے وہ اس کے آپریشنل ڈھانچے میں جدید پختگی اور چیلنجز کے انتظام سے انضمام، لچک اور اعلیٰ تیاری پر مبنی ایک سٹریٹجک برتری کی تعمیر میں تبدیلی کی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ نظام نہ صرف برآمدات اور درآمدات کے لیے ایک مقامی گیٹ وے کے طور پر، بلکہ تجارتی بہاؤ کے انتظام کے لیے ایک جدید علاقائی پلیٹ فارم کے طور پر مملکت کے کردار کو مستحکم کر رہا ہے۔