فرانسیسی صدر میکرون کو لبنان اسرائیل جنگ بندی کی کمزوری پر ’تشویش‘
"جاری فوجی کارروائیوں کے باعث پہلے ہی جنگ بندی متأثر ہو سکتی ہے"
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جمعے کے روز اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مزاحمتی گروپ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی "جاری فوجی کارروائیوں کے باعث پہلے سے متأثر اور کمزور ہو سکتی ہے۔"
"میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد کے دونوں طرف شہریوں کی حفاظت کا مطالبہ کرتا ہوں،" انہوں نے ایکس پر لکھا اور مزید کہا، "حزب اللہ کو اپنے ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔ اسرائیل کو لبنان کی خودمختاری کا احترام اور جنگ ختم کر دینی چاہیے۔"
اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والی 10 روزہ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق نصف شب (جمعرات نو بجے جی ایم ٹی)کے وقت نافذ ہوئی۔
لبنان کی فوج نے اسرائیل کی طرف سے "جارحانہ کارروائیوں" کی اطلاع دی تھی کہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی نصف شب سے ہوا۔
جمعہ کے روز علی الصبح ایکس پر ایک پوسٹ میں لبنان کی فوج نے جنوب کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ "متعدد بار جارحیت کی صورت میں اسرائیل نے" جنگ بندی معاہدے کی "کئی خلاف ورزیاں کی ہیں جن کی روشنی میں" وہ احتیاط برتیں۔