امریکا میں ہولناک واقعہ: باپ کے ہاتھوں 7 بچوں کا قتل، تصاویر منظرِ عام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکا کی ریاست لوزیانا میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک باپ نے فائرنگ کر کے 8 بچوں کو قتل کر دیا، جن میں اس کے اپنے 7 بچے بھی شامل تھے۔

یہ حملہ شہر شریوپورٹ کے ایک علاقے میں دو گھروں تک پھیلا، جس کے بعد پورا علاقہ شدید صدمے میں ہے۔ اسے حالیہ برسوں میں امریکا کے مہلک ترین اجتماعی فائرنگ کے واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

شریوپورٹ پولیس کے ترجمان کرس بورڈی لون کے مطابق فائرنگ میں دو خواتین بھی شدید زخمی ہوئیں، جن میں حملہ آور کی بیوی اور بچوں کی ماں بھی شامل ہے۔

پولیس نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 3 سے 11 سال کے درمیان تھیں اور تمام بچے ایک ہی گھر میں موجود تھے۔

حکام کے مطابق ملزم کی شناخت 31 سالہ شمر ایلکنز کے نام سے ہوئی، جو پولیس کے تعاقب کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا۔

خاندانی تنازع

مزید یہ کہ پولیس ترجمان کرس بورڈی لون نے کہا کہ تفتیش کاروں کو یقین ہے کہ یہ واقعہ خالصتاً ایک خاندانی تنازع کا نتیجہ تھا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پولیس ملزم ایلکنز کو پہلے سے جانتی تھی، جسے 2019 میں اسلحہ سے متعلق ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم حکام کے مطابق انہیں اس سے قبل گھریلو تشدد کے کسی اور معاملے کی اطلاع نہیں تھی۔

چھت پر لاش، ایک بچہ کود گیا

پولیس کے مطابق حملے اتوار کی صبح طلوعِ آفتاب سے کچھ پہلے شریوپورٹ شہر کے جنوب وسطی علاقے میں شروع ہوئے، جہاں ملزم نے پہلے ایک گھر میں ایک خاتون کو گولی ماری، پھر گاڑی چلا کر دوسرے مقام پر پہنچا جہاں یہ ہولناک واردات پیش آئی۔

ترجمان کے مطابق دوسرے گھر کے اندر سات بچوں کو قتل کیا گیا، جبکہ ایک اور بچے کی لاش گھر کی چھت پر ملی، بظاہر وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

مزید یہ کہ ایک اور بچہ چھت سے کود گیا، جسے ہسپتال منتقل کیا گیا اور اس کے بچ جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

شریوپورٹ پولیس چیف وین اسمتھ نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مجھے واقعی نہیں معلوم کیا کہوں، میرا دل صدمے میں ہے… میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ایسا واقعہ کیسے پیش آ سکتا ہے۔

بیوی سے مسائل

متاثرین میں سے ایک کے قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ ملزم اپنی بیوی سے علیحدگی کے عمل سے گزر رہا تھا۔

کرسٹل براؤن، جو زخمی ہونے والی خواتین میں سے ایک کی رشتہ دار ہیں، کے مطابق ایلکنز اور اس کی بیوی کے درمیان طلاق کی کارروائی جاری تھی اور انہیں پیر کے روز عدالت میں پیش ہونا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ سے قبل دونوں کے درمیان علیحدگی کے معاملے پر جھگڑا بھی ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایلکنز کے اپنی بیوی سے چار بچے تھے جبکہ تین بچے ایک اور خاتون سے تھے جو قریب ہی رہتی تھی اور وہ خاتون بھی فائرنگ میں زخمی ہوئی۔

ان کے مطابق تمام بچے ایک ہی گھر میں موجود تھے۔کرسٹل براؤن نے بچوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش مزاج، نہایت دوستانہ اور بے حد معصوم تھے۔

شریوپورٹ شہر سوگ میں

فائرنگ کے چند گھنٹے بعد سوگوار افراد شریوپورٹ کے 79 ویں اسٹریٹ پر واقع ایک منزلہ گھر کے باہر جمع ہوئے، جہاں انہوں نے پھول رکھے۔ گھر کے ایک دروازے پر خون کے نشانات بھی دیکھے گئے۔

بعد ازاں ایک پارکنگ لاٹ میں متاثرین کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں۔

یہ واقعہ امریکا میں حالیہ برسوں کے سب سے ہولناک اجتماعی فائرنگ کے واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، اسے جنوری 2024 میں شکاگو کے مضافاتی علاقے میں آٹھ افراد کے قتل کے بعد سب سے زیادہ جان لیوا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں