اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے (موساد) نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے باکو میں اسرائیلی سفارت خانے اور ملک میں موجود ایک اہم پائپ لائن کو نشانہ بنانے کا ایرانی منصوبہ ناکام بنا دیا ہے جو آذربائیجان میں یہودی مقامات اور اداروں کے علاوہ اسرائیل کو تیل کی فراہمی کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔
موساد اور داخلی سکیورٹی کے ادارے 'شاباک' سمیت اسرائیلی فوج نے آذربائیجان میں ایرانی ہدایت پر کام کرنے والے ایک دہشت گرد سیل کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق اس منصوبے میں باکو-تبلیسی-جیہان آئل پائپ لائن کے ساتھ ساتھ باکو میں اسرائیلی سفارت خانہ، شہر کا کنیسہ اور یہودی کمیونٹی کی اہم شخصیات سمیت متعدد یہودی اہداف کو نشانہ بنانا شامل تھا۔
موساد نے مزید بتایا کہ آذربائیجان کے حکام نے سیل کے کارندوں کو گرفتار کر لیا ہے جن کے قبضے سے بارود سے لدے ڈرونز اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے جو ملک میں سمگل کیا گیا تھا۔ بیان کے مطابق یہ افراد فیلڈ مانیٹرنگ اور فوٹو گرافی کے ذریعے اپنے اہداف کے بارے میں معلومات جمع کر رہے تھے۔
نشریاتی ادارے کے مطابق آذربائیجان کے سکیورٹی اداروں نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران اس ایرانی سیل کو گرفتار کیا۔
اسی تناظر میں اسرائیل نے اس 'ایرانی نظام' کو بھی بے نقاب کیا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیل کے اندر اور باہر حملوں کی کوششوں کے پیچھے کارفرما ہے۔
بیان کے مطابق اس نظام کی سربراہی رحمان مقدم کر رہا تھا جو پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے کے سپیشل آپریشنز ڈیپارٹمنٹ (یونٹ 4000) کا سربراہ بھی رہا۔ وہ 28 مارچ سنہ 2026ء کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے آغاز میں مارا گیا تھا۔ یہ یونٹ ایرانی حدود سے باہر اسرائیلی اور مغربی اہداف کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور نفاذ کے علاوہ جدید ترین ہتھیاروں کی سمگلنگ کی کوششوں کا ذمہ دار ہے۔
معلومات سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ مقدم نے گذشتہ برسوں کے دوران عالمی سطح پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوششوں کی قیادت کی جس میں ایرانی اور غیر ملکی عناصر کی بھرتی اور تربیت شامل تھی تاکہ اسرائیلی حکام، فوجی مقامات، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات جمع کی جا سکیں۔
موساد کے مطابق 28 مارچ سنہ 2026ء کو شروع ہونے والے آپریشن 'لائنز رور' (ببر شیر کی گرج) نے خطے میں ایرانی رویے میں مزید شدت پیدا کی جس میں آپریشنل صلاحیتوں کو وسعت دینے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی نظام کے عناصر حملوں کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں جیسے دیگر فریقوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ جنگ کے پہلے دن اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں میں قائدین اور اعلیٰ حکام کی ایک لمبی فہرست کو نشانہ بنایا گیا تھا جن میں نمایاں ترین سابق مرشدِ اعلیٰ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کی زمینی فوج کے کمانڈر محمد پاکپور، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی، بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی اور ایرانی وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب شامل تھے۔
-
آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق عباس عراقچی کے بیان پرایران کا پہلا سرکاری ردعمل سامنے آگیا
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے چند روز قبل آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ...
مشرق وسطی -
امریکہ : پرتعیش زندگی گذارنےوالی ایرانی خاتون تہران کےلیےاسلحےکی تجارت کےالزام میں گرفتار
امریکی حکام نے لاس اینجلس کے ہوائی اڈے سے ایک ایرانی کاروباری خاتون کو گرفتار کیا ...
مشرق وسطی -
ایران میں اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی سے تعلق کے الزام میں دو افراد کو پھانسی
ایرانی عدلیہ نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی سے روابط کے جرم میں پیر ...
مشرق وسطی