اسرائیل کی جنوبی لبنان کے باسیوں کو دوبارہ وارننگ، 59 دیہاتوں میں واپسی پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان میں جنگ بندی میں توسیع کے باوجود اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو 59 دیہاتوں میں واپس لوٹنے کے خلاف اپنی تنبیہ کا اعادہ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں جنوبی لبنان کے باسیوں کو خبردار کیا کہ وہ 20 دیہاتوں پر مشتمل مخصوص لائن اور اس کے مضافات سے جنوب کی طرف نقل و حرکت نہ کریں اور دریائے لیطانی، وادی الصلحانی اور السلوقی کے علاقوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔

ترجمان نے شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوب کے 59 دیہاتوں کی طرف نہ جائیں اور نہ ہی وہاں واپس لوٹیں جن میں البیاضہ، شاما، طیر حرفا، ابو شاش، الجبین، الناقورہ، ظہیرہ، مطمورہ، یارین، ام توتہ، الزلوطیہ، بستان، شیحین، مروحین، بنت جبیل، عیتا الشعب، حنین، یارون اور مارون الرأس شامل ہیں۔

بیروت اور بعلبک کی فضاؤں میں طیاروں کی پروازیں

دوسری جانب لبنانی سرکاری نامہ نگار ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی قصبے حولا پر اسرائیلی توپ خانے نے گولہ باری کی جبکہ خیام میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسی دوران دارالحکومت بیروت کے جنوبی ضاحیہ، مشرقی لبنان کے شہر بعلبک اور اس کے گرد و نواح کے دیہاتوں پر اسرائیلی ڈرون طیاروں کی نچلی پروازیں بھی ریکارڈ کی گئیں۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان میں ایک پیلی لائن قائم کر دی ہے جو بالکل ویسی ہی ہے جیسی اس نے غزہ پٹی میں القسام بریگیڈز کے زیر کنٹرول علاقوں اور اپنی افواج کے درمیان قائم کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ تصادم کا آغاز دو مارچ سنہ 2026ء کو ہوا تھا جب 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی پہلی لہر کے حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ برسائے تھے۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان کے کئی علاقوں میں وسیع پیمانے پر فضائی غارت گری کی اور سرحد سے ملحقہ جنوب کے درجنوں قصبوں میں زمینی یلغار کے ساتھ ساتھ متعدد سرحدی دیہاتوں میں گھروں کو منہدم اور تباہ کر دیا تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک لگ بھگ 2000 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ تقریبا دس لاکھ لبنانیوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں