جنگ میں امریکہ کی مدد کرنےوالےاور اب قطر میں پھنسے ہوئےافغان وطن واپس آجائیں: افغان حکومت
سینکڑوں بے یقینی کا شکار، ذہنی کرب صحت کے مسائل کی وجہ بن گیا
افغان وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ جن افغانوں نے امریکہ کی جنگی کوششوں میں اس کی مدد کی اور امریکہ پہنچنے کی امید میں قطر میں پھنسے ہوئے ہیں، وہ بحفاظت افغانستان واپس آ سکتے ہیں۔
ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں جنگ کے دوران امریکہ کی مدد کرنے والے اور امریکی فوجیوں کے رشتہ دار 1100 افغانوں کو ممکنہ طور پر کانگو بھیجنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ ہفتہ کو ترجمان وزارتِ خارجہ عبدالقہار بلخی کا بیان ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
افغانوں کی آبادکاری کی کوششوں کی حمایت کرنے والی #AfghanEvac نامی ایک تنظیم نے بدھ کو کہا کہ امریکی حکام نے گروپ کو امریکہ اور کانگو کے درمیان مذاکرات سے آگاہ کیا جو دوحہ میں امریکی فوجی مرکز السیلیہ کیمپ میں گذشتہ ایک سال سے پھنسے ہوئے افغان مہاجرین کو لے جانے کے بارے میں ہوئے۔
تنظیم #AfghanEvac نے کہا کہ پناہ گزینوں کو ایک متبادل راستہ فراہم کیا گیا تھا کہ وہ افغانستان واپس چلے جائیں جہاں انہیں دو عشروں کی جنگ کے دوران امریکہ کے ساتھ کام کرنے پر طالبان کے ہاتھوں انتقامی کارروائی یا موت کا خدشہ ہے۔
بلخی نے اپنے بیان میں لکھا، افغان وزارتِ خارجہ "اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ افغانستان تمام افغانوں کا مشترکہ وطن ہے اور یہ تمام متعلقہ افراد کے ساتھ ساتھ دیگر ایسے ہی لوگوں کو بھی دعوت دیتا ہے کہ وہ پورے اعتماد اور ذہنی سکون کے ساتھ اپنے وطن واپس آ جائیں جس کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "جو لوگ دوسرے ملک کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ قانونی اور باوقار چینلز کے ذریعے مناسب موقع پر ایسا کر سکتے ہیں۔" افغان وزارتِ خارجہ "تمام ممالک کے ساتھ معاملات کے لیے تیار ہے۔ وزارت "تمام فریقوں پر زور دیتی ہے کہ افغانستان میں کوئی سکیورٹی خطرہ نہیں ہے اور کسی کو بھی سکیورٹی خدشات کی بنا پر ملک چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔"
کیمپ السیلیہ میں موجود افراد کی جانب سے گروپ #AfghanEvac نے ایک مشترکہ بیان پوسٹ کیا جس میں افغانوں نے کہا کہ انہیں دوسری جگہ ممکنہ منتقلی کے لیے ہونے والی بات چیت کے بارے میں امریکی حکام سے کوئی اطلاع نہیں ملی اور انہیں پریس سے اس کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس غیر یقینی حالت میں وہ رہ رہے ہیں وہ انہیں شدید متأثر کر رہی ہے۔
"ہم میں سے کئی لوگ ٹھیک نہیں ہیں۔ غیر یقینی صورتِ حال ہم میں سے بعض لوگوں کی برداشت سے زیادہ رہی ہے۔ گہری افسردگی اور دباؤ ہے،" گروپ نے لوگوں کے بارے میں کہا اور مزید بتایا کہ بعض لوگ ان حالات کے باعث اپنی ذہنی صحت کے ساتھ جدوجہد کر رہے تھے۔
گروپ نے کہا، "ہم یہ واضح طور پر کہیں گے۔ ہم جمہوریہ کانگو نہیں جانا چاہتے۔ یہ ملک خود اپنی جنگ لڑ رہا ہے، ہم نے بہت جنگ دیکھ لی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ایک اور جنگ میں نہیں لے جا سکتے۔"
یاد رہے کہ افریقی ملک اپنے مشرقی علاقے میں حکومتی افواج اور روانڈا کے حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان کئی عشروں سے جاری لڑائی کا شکار ہے۔
دوحہ کے کیمپ میں موجود افغانوں نے کہا کہ افغانستان واپس جانا بھی کوئی آپشن نہیں تھا۔ گروپ نے اپنے بیان میں کہا، "طالبان ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اس لیے مار دیں گے جو ہم نے امریکہ کے لیے کیا تھا۔ یہ کوئی خوف نہیں ہے، یہ ایک حقیقت ہے۔ امریکہ یہ جانتا ہے کیونکہ امریکہ ہی اس کی وجہ ہے کہ ہم گھر نہیں جا سکتے۔"
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن والے صدارتی احکامات کے تحت جو بائیڈن کا افغان آبادکاری پروگرام روک دیا تھا تو نقلِ مکانی سے متعلق معاملات ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد سامنے آئے ہیں۔
جنگ اور ظلم و ستم سے فرار ہونے والے ہزاروں پناہ گزین اس پالیسی سے قطر کے فوجی مرکز سمیت تمام دنیا کے مقامات پر پھنسے رہ گئے اور امریکہ میں نئی زندگیاں شروع کرنے کے لیے بعض اوقات انہیں سالوں تک جانچ پڑتال کے عمل سے گذرنا پڑا۔
-
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے میں شامل ایک تباہ کن جنگی جہاز کی تصویر جاری کر دی
امریکی بحری ناکہ بندی کے تسلسل کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان ...
بين الاقوامى -
ایران-امریکہ معاہدے کے بعد ترکیہ ہرمزسےبارودی سرنگیں ہٹانےمیں کردارپرغورکرسکتاہے: ترک وزیر
ترک وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے کہا کہ ترکیہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن ...
بين الاقوامى -
اسلام آباد میں امریکہ سے براہ راست مکالمت نہیں ہو گی، ایران
ایران نے مطالبات پاکستان کے حوالے کر دیے، امریکی شرائط پر تحفظات بھی پیش
پاكستان