چین نے دارالحکومت میں ڈرون طیاروں پر پابندی لگا دی... ضوابط مزید سخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

چینی حکام نے دارالحکومت بیجنگ میں ڈرون طیاروں پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں شہر کے اندر ان کی فروخت پر پابندی اور کسی بھی پرواز کے لیے پیشگی اجازت نامہ حاصل کرنا شامل ہے۔ یہ اقدام اس قسم کی ٹیکنالوجی سے وابستہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔

حکام نے واضح کیا کہ نئے قواعد آئندہ جمعے کے روز سے نافذ العمل ہوں گے، جس کے تحت بیجنگ میں ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈرون طیاروں کی فروخت یا ترسیل پر پابندی ہو گی۔ فرانس پریس کے مطابق شہر میں ڈرون یا ان کے بنیادی پرزے لانے پر بھی پابندی ہو گی۔

مزید برآں نئے ضوابط کے تحت تمام ڈرون صارفین کے لیے کسی بھی پرواز سے پہلے پیشگی اجازت کی درخواست دینا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ دارالحکومت کی فضائی حدود کو غیر مجاز پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ان احکامات کی کسی بھی خلاف ورزی پر 10 ہزار یوآن تک جرمانہ اور ڈرون ضبط کیے جانے جیسی سزائیں رکھی گئی ہیں، جو تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ آبادی والے شہر میں اس شعبے کی تنظیم سازی میں غیر معمولی سختی کو ظاہر کرتی ہیں۔

حکام نے وضاحت کی ہے کہ جن مالکان نے یکم مئی سے پہلے اپنے ڈرون اپنے نام پر رجسٹرڈ کروا لیے تھے، وہ انہیں بیجنگ لانے اور لے جانے کے اہل ہوں گے، جبکہ صارفین کو مقامی پولیس اسٹیشنوں میں اپنے آلات رجسٹر کروانے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ڈرونز کی تعداد کی حد بھی مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت دارالحکومت کے چھٹے رنگ روڈ کے اندر ایک مقام پر تین سے زیادہ ڈرون نہیں رکھے جا سکیں گے۔

حکام نے ان اقدامات کا جواز شہری اور تجارتی مقاصد کے لیے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر کم بلندی والی فضائی حدود کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ضرورت بتایا ہے۔ ساتھ ہی ان کے غیر قانونی سرگرمیوں یا سکیورٹی خطرات میں استعمال ہونے کے خدشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

بیجنگ میونسپلٹی کے ایک اہل کار نے کہا کہ دارالحکومت کو "فضائی حدود کی سلامتی میں بڑے چیلنجز" کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے اس شعبے پرنگرانی سخت کرنا ضروری ہے۔

نئے قواعد کے نفاذ کے ساتھ ہی بیجنگ کے اسٹورز نے پہلے ہی ڈرونز کو فروخت کے لیے نمائش سے ہٹانا شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین نے ان پابندیوں پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تفریحی یا تعلیمی مقاصد کے لیے ان آلات کے استعمال کو محدود کر رہی ہیں۔
ہوا بازی کی تربیت دینے والے اداروں نے بھی نئے آلات کے حصول یا ان کی دیکھ بھال میں دشواریوں پر تشویش ظاہر کی ہے، اگرچہ تعلیم، کھیل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسی کچھ سرگرمیوں کے لیے استثنا دیے جانے کا امکان ہے۔

یہ قدم چین میں ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے، جہاں اس سال قومی قوانین کو سخت کیا گیا ہے، جس میں غیر قانونی پروازوں پر 15 دن تک حراست کی سزا اور پرواز کے دوران ڈرونز کا ڈیٹا فوری طور پر حکام کو منتقل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر سکیورٹی سے وابستہ ٹیکنالوجی کی سخت ریگولیشن کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ جہاں بیجنگ اسے فضائی حدود کے تحفظ کے لیے ضروری قدم قرار دے رہا ہے، وہیں یہ فیصلہ دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک میں سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے آزادانہ استعمال کے درمیان توازن پر سوالات بھی اٹھا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں