امریکہ نے پاکستان اور دیگر ممالک کے لیے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کا ٹھیکہ دیا

معاہدہ ایف-16 ریڈار کے لیے انجینئرنگ اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی فضائیہ (یو ایس اے ایف) نے ایف-16 ریڈار سسٹمز کی طویل مدتی انجینئرنگ اور تکنیکی معاونت کے لیے نارتھ روپ گرومن سسٹمز کارپوریشن کو 488 ملین ڈالر کا ٹھیکہ دیا ہے اور اس معاہدے میں شامل ممالک میں پاکستان کا نام بھی ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ ایف-16 جیٹ طیاروں کا شمار پاکستانی فوج کے ہتھیاروں میں قیمتی ترین دفاعی ہارڈ ویئر میں ہوتا ہے۔ مبینہ طور پر ملک کے پاس تقریباً 50 ایف-16 طیاروں کا بیڑہ ہے جن میں سے ہر ایک کی قیمت کم از کم 40 ملین ڈالر ہے۔

تاہم جنوبی ایشیائی ملک کو طیاروں کی تکنیکی اپ ڈیٹس میں مسائل کا سامنا ہے جس نے 1980 کے عشرے میں پیس گیٹ پروگرام کے تحت امریکہ سے یہ جیٹ طیارے حاصل کیے تھے۔

امریکہ نے اب نارتھ روپ گرومن سسٹمز کارپوریشن کو ایف-16 سسٹم پروگرام آفس فارن ملٹری سیلز (ایف ایم ایس) اور فضائیہ/بحریہ کی معاونت کے لیے 488 ملین ڈالر کا ٹھیکہ دیا ہے۔

امریکی محکمہ جنگ نے اس ہفتے اپنی ویب سائٹ پر کہا، "یہ معاہدہ ایف-16 ریڈار کی انجینئرنگ اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے میں بحرین، بیلجیم، چلی، ڈنمارک، مصر، یونان، انڈونیشیا، عراق، اسرائیل، اردن، کوریا، مراکش، نیدرلینڈز، ناروے، عمان، پاکستان، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، تھائی لینڈ اور ترکی شامل ہیں۔"

دسمبر میں امریکہ نے پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی سپورٹ اور ساز و سامان کی فروخت کے لیے منظوری دی تھی۔ امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کے کانگریس کو ارسال کردہ ایک خط کے مطابق اس کی مالیت 686 ملین ڈالر تھی۔ خط میں کہا گیا کہ اس اقدام سے اسلام آباد کو انسدادِ دہشت گردی کی جاری کوششوں میں واشنگٹن سے شراکت داری کرنے کا موقع ملے گا۔

پاکستان اور امریکہ اہم اتحادی رہے ہیں۔ مجوزہ فروخت اس وقت ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ان کی حالیہ ملاقاتوں کے بعد واشنگٹن کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہو گیا۔

عرب نیوز کی ملاحظہ کردہ اور آٹھ دسمبر کی دستاویز کی ایک نقل کے مطابق اسلام آباد نے 92 لنک-16 سسٹم کمیونیکیشن/ڈیٹا شیئرنگ نیٹ ورکس اور عام مقصد کے چھے Mk-82 inert 500-lb بم باڈیز خریدنے کی درخواست کی تھی۔

خط میں لکھا گیا، "یہ مجوزہ فروخت امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرے گی جس سے پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں اور مستقبل کی ہنگامی کارروائیوں کی تیاری میں امریکہ اور شراکت دار افواج سے باہمی تعاون برقرار رکھنا ممکن ہو گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں