ناسا کی بڑی کامیابی: تاریخ میں پہلی بار سونامی کی انتہائی ایچ ڈی تصاویر جاری
سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل ہونے والی ان تصاویر نے سمندری لہروں کے بارے میں سائنسدانوں کے پرانے نظریات بدل کر رکھ دیے ہیں
ایک نمایاں سائنسی دریافت میں ایک سیٹلائٹ بحر الکاہل میں آنے والے ایک بڑے سونامی کی پہلی ہائی ریزولوشن (انتہائی ایچ ڈی) تصویر لینے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس تصویر نے ان لہروں کے غیر متوقع رویے کو بے نقاب کیا ہے جس سے سائنسدانوں کا ان لہروں کی منتقلی اور ساحلوں پر ان کے اثرات کے بارے میں فہم تبدیل ہو سکتا ہے۔
ناسا کے "ایس ڈبلیو او ٹی" (SWOT) نامی سیٹلائٹ نے 29 جولائی سنہ 2024ء کو روس کے علاقے کامچٹکا میں آنے والے 8.8 شدت کے طاقتور زلزلے سے پیدا ہونے والے سونامی کی نگرانی کی۔ واضح رہے کہ یہ سنہ 1900ء سے اب تک کا ریکارڈ کیا گیا چھٹا طاقتور ترین زلزلہ تھا۔
غیر مسبوق تصویر
جریدے "دی سیزمک ریکارڈ" میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سیٹلائٹ نے بڑے سونامی کے پہلے ہائی ریزولوشن خلائی راستے کو ریکارڈ کیا جس سے معلوم ہوا کہ ان لہروں کے پیٹرن سابقہ تصورات کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔
ایس ڈبلیو او ٹی سیٹلائٹ دسمبر سنہ 2022ء میں ناسا اور فرانسیسی نیشنل سنٹر فار اسپیس اسٹڈیز کے درمیان شراکت داری کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا جس کا مقصد عالمی سطح پر زمین کے سطحی پانی کا نقشہ تیار کرنا ہے۔
سائنسدان پہلی بار سمندر کی سطح کے تقریباً 120 کلومیٹر کے رقبے کو انتہائی باریک تفصیلات کے ساتھ دیکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں بجائے اس کے کہ وہ گہرے سمندر کے مختلف مقامات سے حاصل ہونے والے محدود ڈیٹا پر انحصار کریں۔
آئس لینڈ یونیورسٹی کے اینجل روئیز انگولو اور ان کی ٹیم نے سیٹلائٹ ڈیٹا کو "ڈی اے آر ٹی" (DART) سسٹم کے ڈیٹا کے ساتھ جوڑا جو سمندر کی گہرائی میں سونامی کی نگرانی کے لیے لگائے گئے خودکار آلات پر مبنی ہے۔ ان مشترکہ اعداد و شمار نے طاقتور زلزلے کے بارے میں نئی بصیرت فراہم کی ہے جس سے یہ واضح ہوا کہ توانائی پورے سمندر میں کس طرح پھیلتی ہے۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ سونامی کی لہریں ہمیشہ ایک مربوط لہر کے طور پر حرکت نہیں کرتیں جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا بلکہ وہ کئی حصوں میں تقسیم ہو سکتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کی توانائی زیادہ پیچیدہ طریقوں سے تقسیم ہوتی ہے۔
پرانے مفروضوں کو چیلنج
سائنسدان طویل عرصے سے یہ فرض کرتے رہے ہیں کہ سونامی کی لہریں "غیر منتشر" ہوتی ہیں یعنی وہ بکھرے بغیر طویل فاصلہ طے کرتی ہیں۔ تاہم نئے اعداد و شمار اس کے برعکس اشارہ کرتے ہیں جہاں یہ دیکھا گیا کہ مرکزی لہر ساحلوں کے قریب پہنچتے ہی بعد میں آنے والی لہروں سے متاثر ہوتی ہے۔
محققین کے مطابق اس دریافت نے سونامی کی پیش گوئی کے لیے استعمال ہونے والے روایتی ماڈلز میں "کمی" کو ظاہر کیا ہے جس کے بعد انہیں مزید درست بنانے کے لیے دوبارہ تیار کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
زلزلوں کے بارے میں نئے شواہد
ان اعداد و شمار نے زلزلے کے ماخذ کو سمجھنے میں بھی مدد دی ہے۔ تجزیوں سے معلوم ہوا کہ فالٹ لائن کی لمبائی تقریباً 400 کلومیٹر تھی جبکہ سابقہ تخمینوں میں اسے صرف 300 کلومیٹر بتایا گیا تھا۔ یہ دریافت زلزلے کی پیمائش کے ساتھ سونامی کے ڈیٹا کو یکجا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے تاکہ ان مظاہر کی نوعیت کی جامع تصویر حاصل کی جا سکے۔
روس کا علاقہ کامچٹکا اور جزائر کوریل سونامی کے لیے سب سے زیادہ حساس علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ سنہ 1952ء میں یہاں تباہ کن لہریں دیکھی گئی تھیں جس کے بعد بین الاقوامی انتباہی نظام قائم کیا گیا تھا۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سیٹلائٹ جیسی نئی ٹیکنالوجیز قبل از وقت انتباہی نظام میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہیں خاص طور پر اگر انہیں بروقت استعمال کیا جائے۔
اگرچہ یہ نتائج سونامی کے رویے کے فہم کو بہتر بناتے ہیں لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ اس کا خطرہ بڑھ گیا ہے بلکہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ ماڈلز اس کی حرکت کی تمام باریک تفصیلات کو گرفت میں نہیں لے پاتے۔
یاد رہے کہ یہ خلائی تصویر سمندروں کے مطالعے میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے جہاں اب سائنسدان صرف زمینی پیمائش پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ خلا سے بھی سونامی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کی ترقی سے ان آفات کی پیش گوئی زیادہ درست ہو سکے گی جس سے دنیا کو تیاری کے لیے زیادہ وقت ملے گا اور نقصانات کو کم کیا جا سکے گا۔