ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی امریکی کوششوں کے دائرہ کار کے تحت امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز جارج ایچ ڈبلیو بش (CVN 77) بحیرہ عرب سے گزر رہا ہے۔
سینٹ کام نے آج منگل کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے سرکاری پیج پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ طیارہ بردار بحری جہاز جارج ڈبلیو بش آبنائے ہرمز میں "پروجیکٹ فریڈم" میں شریک ہے اور اس پر 60 سے زائد طیارے سوار ہیں۔
سینٹ کام نے بعد ازاں وضاحت کی کہ اب تک ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کے پیشِ نظر 51 بحری جہازوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشق ہے۔ انہوں نے "فوکس نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مزید کہا "ہمارے پاس مزید اسلحہ اور گولہ بارود ہے اور ہم پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلند سطح پر ہیں"۔
امریکی صدر نے اشارہ کیا کہ ایران کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو "نیک نیتی" کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا، یا پھر فوجی کارروائیوں کا دوبارہ سے سامنا کرنا۔
ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو وہ ایران کو مٹا دیں گے۔
ان کے الفاظ کے مطابق اگر ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی قیادت کرنے والے امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو ہم ایران کو روئے زمین سے مٹا دیں گے۔
-
گوتیرس کا ایران سے نوبل انعام یافتہ نرگس محمدی کی دیکھ بھال کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے نرگس محمدی کی صحت کے بارے میں تشویش ...
مشرق وسطی -
ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے:امریکی وزیر دفاع
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان ...
بين الاقوامى -
ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کے بعد متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود محدود کر دیں
بیروت کے ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی زیادہ تر پروازیں بھی منسوخ
مشرق وسطی